میں بہر حال کتابوں میں ملوں گا تم کو ۔ کتابیں مہذب معاشرہ کی پہچان ہوتی ہیں

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 18-01-2026
  میں بہر حال کتابوں میں ملوں گا تم کو ۔  کتابیں مہذب معاشرہ کی پہچان ہوتی ہیں
میں بہر حال کتابوں میں ملوں گا تم کو ۔ کتابیں مہذب معاشرہ کی پہچان ہوتی ہیں

 



ڈاکٹر عمیر منظر

شعبہ اردو، مانو لکھنؤ کیمپس

کتاب اور انسان لازم و ملزوم ہیں۔اسے صرف تاریخ کے تناظر میں نہیں بلکہ تہذیب وثقافت کے فکری تسلسل کے طورپر بھی دیکھنا چاہیے۔واقعہ یہ ہے کہ کتاب علم کی جستجو کا دوسرا نام ہے اور یہی جستجو متحرک اور سرگرم رکھتی ہے۔کتاب کو صدیوں کا حافظہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔انسانوں نے کتابوں کے توسط سے ہی اپنے تجربات و احساسات کو نہ صرف محفوظ کیا ہے بلکہ اسے فکری وسعت بھی دی ہے اور آئندگان سے مکالمے کی صورت بھی اسی طور پر قائم کی گئی ہے۔کوئی بھی عہد اس سے خالی نہیں رہا ہے۔عیسی مسیح سے قبل کے زمانے میں مٹی کی تختیوں پر مختلف متون تحریر کیے گئے جبکہ قدیم مصر میں پیپر س پر تحریروں کو محفوظ کرنے کی صورت پیدا کی گئی۔قرآن مجید کی کتابی صورت اور دیگر موضوعات کی کتابوں کی تصنیف و تدوین اسی روشن روایت کا تسلسل ہے۔بغداد کا بیت الحکمت اور اندلس کے کتب خانے کتابوں سے غیر معمولی دلچسپیوں کی خوب صورت روایت اور اس کی روشن مثالیں ہیں۔ آزادی سے قبل ہندوستان میں بھی بہت سے ایسے ادارے قائم کیے گئے جن کا مقصد ہی تصنیف و تالیف تھا۔اس نوع کے اداروں میں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کو ممتاز مقام حاصل ہے۔یہ ادارہ آج بھی سرگرم ہے۔کتابوں کی خرید و فروخت بھی اسی ذوق حسن کی ترجمان قرار دی گئی ہے۔مضامین حالی میں ایک جگہ یہ عبارت درج ہے۔

”شیخ ابوالفیض فیضی نے جب تفسیر سواطع الالہام لکھنے کا ارادہ کیاتھا تو لغت عربی پر عبور حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ عربی لغات کی کتابیں خریدا کرتاتھا ایک بار اس نے کئی ہزار روپے کی کتابیں اس غرض سے خریدیں۔جب ان کو اول سے آخر تک دیکھ چکا تو ایک روز مجلس میں کسی نے شیخ سے ان کتابوں کا حال پوچھا اس نے کہا الحمد اللہ جو حقیر رقم میں نے ان کتابوں کو خریدنے میں صرف کی تھی اس سے مجھ کو بہت فائدہ ہوا۔میں نے دو لغت ان کتابوں میں ایسے پائے جو پہلے میری نظر سے نہ گذرے تھے۔“

کتابوں سے دلچسپی اور اس کے مطالعہ کا شوق عام ہندستانیوں کا بہت قدیم شیوہ رہا ہے۔لکھنؤ،دلی اور دیگر اہم مراکز کتابوں اور ان کی اشاعت و طباعت کے لحاظ سے بھی اپنی ایک خاص اہمیت رکھتے تھے۔یہاں کی تہذیبی اور تمدنی تاریخ ثقافتی سرگرمیوں کے بغیر ادھوری تصوری کی جاتی تھی۔ دلی والوں کے مزاج میں ادب و تہذیب کی روایتیں درباری آداب کی طرح داخل تھیں۔جس میں شاہ و گدا خود شریک ہوتے تھے۔مرقع دہلی،دہلی کی آخری شمع،یادگار غالب اورتدکرہ دہلی سے یہاں کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔یہ کتابیں دلی کے ادبی و علمی شغف کا واضح بیانیہ ہیں۔مرزا غالب نے اپنے متعدد خطوط میں کتابوں کی اشاعت و طباعت اور اس کے طریقہ کار ذکر کیا ہے۔چھاپے خانوں کے بارے میں لکھا ہے۔لکھنؤ کے چھاپہ خانے کی تعریف کی ہے۔جبکہ دلی کے چھاپہ خانہ پر لعنت بھیجی ہے۔مطبع نول کشور اردوطباعت کی ایک نہایت روشن مثال ہے۔پتھر کی سلوں نے علم و ادب کی ایک ایسی دنیا قائم کردی کہ منشی نول کشور کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا۔ز مانہ چاہے جیسا بھی رہا ہو مگر کتاب اور انسان کا رشتہ ہمیشہ قائم و دائم رہا۔

عبدالحلیم شرر نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”گذشتہ لکھنؤ“میں کتابوں کی اشاعت و طباعت کا بھی ذکر کیا ہے۔ان سے کتابوں کی مقبولیت اور اس کی تجارت کے بارے میں بہت معلومات ملتی ہیں۔عبدالحلیم شرر کے والد کے حقیقی چچا مولوی احمد تھے،جن کو تجارت اور سفر کا شوق تھا۔مولوی احمد حاجی حرمین شریفین کے ایجنٹ تھے۔اس ادارہ کی مطبوعات وہ لکھنؤ سے راولپنڈی تک رتھوں اور بیل گاڑیوں پر لاد کر لے جاتے۔ایک واقعہ سے کتابوں اور لکھنؤ کے مطابع دونوں کی مقبولیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ ابتدا میں مطبع سلطانی کے علاوہ 1839 تک جن دو مطابع کا ذکر ملتا ہے ان میں ایک مطبع حرمین شریفین جسے مطبع محمدی بھی کہا جاتا ہے اور دوسرا حاجی مطصفے خاں کا مطبع،مطبع مصطفائی ہے۔مطبع حاجی حرمین شریفین یعنی مطبع محمدی کا ذکر عبدالحلیم شررنے بھی کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

یہاں کی مطبوعہ کتابوں کو دیکھ کے لوگوں کی آنکھیں کھل جاتی تھیں اور پروانہ وار گرتے تھے۔لوگوں کے شوق کا یہ عالم تھا کہ ہم جس شہر یا گاؤں میں پہنچتے ہم سے پہلے ہماری خبر پہنچ چکتی۔اور ہمارا داخلہ عجب شان و شوکت سے ہوتا۔ادھر ہم کسی بستی میں پہنچے ادھر خلقت نے گھیر لیا۔بھیڑ لگ جاتی تھی اور ہم جس کتاب کو جس قیمت پر دیتے لوگ بے عذرلے کے آنکھوں سے لگاتے۔(گزشتہ لکھنؤ،عبدالحلیم شرر،مکتبہ جامعہ 2011،ص 177)

کتابوں سے تعلق اور دلچسپی کی یہ روایت آج بھی زندہ ہے اور اس میدان میں کیسے کیسے لوگ قدم بڑھا رہے ہیں۔ان کے حوصلہ قابل داد ہیں۔کیونکہ اس وقت سب سے بڑا چیلنج ڈ یجٹل پلیٹ فارم ہے۔لیکن ڈیجٹل پلیٹ فارم کی حد درجہ مصروفیت کے باوجود کتاب پڑھنے والوں کی تعداد کسی طور پر کم نہیں ہے بلکہ اس میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ ڈیجٹل پلیٹ فارم پر بھی کتابوں کی باتیں ہوتی ہیں بلکہ بہت سے لوگ ہیں جو حاصل مطالعہ وڈیو کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اس نوع کی چیزیں دلچپسی سے خالی نہیں ہیں۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پہلے جہاں معلومات کا واحد ذریعہ کتابیں ہی ہوا کرتی تھیں اب اس میں بے شمار ذرائع شامل ہوچکے ہیں۔یہی سبب ہے کہ علم کے حصول کے ذرائع میں اضافہ ہوا ہے اور پڑھنے والے ان ذرائع سے بھی استفادہ کررہے ہیں۔شاید اسی سبب کتابوں کی تعداد اشاعت میں تو کمی ضرور آئی ہے لیکن اس کی مقبولیت کسی طورپر کم نہیں ہے۔

عالمی کتاب میلے نے کتابوں سے متعلق ہماری دلچپسی کو فروغ دیا ہے اور اس وقت ہر طرف اسی میلے کا ذکر ہے۔یہ فضا خود بہت قابل قدر ہے اور جس قدر اس کی تشہیر کی جائے وہ کم ہے۔گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران بے شمار لوگوں نے ملک کے گوشے گوشے سے نہ صرف بھارت منڈپم کی طرف رخ کیا ہے بلکہ اپنی پسند کی کتابوں کو خریدا بھی ہے۔اس کے علاوہ کتاب میلے بارے میں اپنے تجربات و احساسات بھی پیش کیا ہے۔سوشل میڈیا کے توسط سے اس نوع کی تحریروں کو دور دور تک پڑھا جارہا ہے اور اس پر اظہار خیال کیا جارہا ہے۔کوئی بھی پروگرام ہر لحاظ سے کام یاب ہو یہ ضروری نہیں لیکن اس نوع کی پیش رفت ضروری ہے اور قابل قدر بھی۔

عالمی کتاب میلے کی خوش گوار بات یہ ہے کہ اس میں اردو کتابوں کے ناشرین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور زیادہ سے زیادہ لوگو ں کی توقعات پر کھرا اتر نے کی کوشش کی ہے۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے کتابوں کے ساتھ ساتھ روزانہ کی ادبی سرگرمیوں کے توسط سے پورے ملک کے لوگوں کو براہ راست میلے سے جوڑ رکھا ہے۔کونسل کے اسٹال پر ادبی،علمی اور ثقافتی سرگرمیاں گذشتہ ایک ہفتہ سے جاری ہیں۔یہ سرگرمیاں ان کے فیس بک پیج پر بھی خبروں کی شکل میں تصویروں کے ساتھ پوسٹ کی جاتی ہیں، جس کو نہ صرف لوگ پڑھتے ہیں بلکہ اس کے تئیں اپنی دلچپسی کا بھی اظہار کرتے ہیں۔کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال مبار باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے کتاب میلے کے تعلق سے ایک خوش گوار روایت قائم کر رکھی ہے۔اس کے علاوہ نامک پبلی کیشنز نے کتابوں کے ساتھ ساتھ لیکھک منچ پر اکیسویں صدی میں اردو ادب کے موضوع پر ایک مذاکر ے کا اہتمام کیا جسے لوگوں نے بھر پور توجہ سے سنا۔ان کی یہ پہل لائق ستائش ہے۔کتاب میلوں میں ان کی مقبولیت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔اس کے علاوہ بنگال اردو اکادمی،اتر پردیش اردو اکادمی،دہلی اردو اکادمی،غالب انسٹی ٹیوٹ،خسرو فاؤنڈیشن،ایم آر پبلی کیشن،البلاغ پبلی کیشن،ریختہ فاؤنڈیشن،انجمن ترقی اردو،مرکزی مکتبہ اور حرا بک ڈپو و دیگر اردو کے کتابوں کے ناشرین کی آمد سے کتاب میلے میں اردو کی ایک ہما ہمی ہے جو کل تک جاری رہے گی۔بہت سی کتابوں کی رسم رونمائی ہوئی اور لوگوں نے الگ الگ انداز میں اس میلے سے فائدہ اٹھایا۔یہ کتاب دوستی ہمیں اسی روشن روایت کی طرف لے جاتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا جاچکا ہے۔

جسم تو خاک ہے اور خاک میں مل جائے گا

میں بہر حال کتابوں میں ملوں گا تم کو