تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا - پروفیسر شاہد حسین کی یاد میں

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 07-06-2026
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا- پروفیسر شاہد حسین کی یاد میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا- پروفیسر شاہد حسین کی یاد میں

 



عمیر منظر
شعبہ اردو ،مانو لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ
 
پروفیسر شاہد حسین(1949۔20مئی 2026)سے باقاعدہ کلاس رو م میں پڑھنے کاموقع نہیں ملا۔لیکن گذشتہ دو تین دہائیوں کے دوران میں ان سے اور ان کی تحریروں سے ایک سرگرم رشتہ ضرور تھا۔ پہلی باقاعدہ ملاقات تو پی ایچ ڈی کے زبانی امتحان (وائیوا)کے موقع پر ہوئی تھی۔ان دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا شعبہ اردو نامور اساتذہ اور ادیبوں سے آباد تھا۔دوسرے شعبوں کے اساتدہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔زبانی امتحان میں دھیما لہجہ اورسکون وطمانیت بھرے انداز میں ان کے مشکل سولات بھی آسان لگ رہے تھے۔ان سے ملنے والا کوئی بھی شخص اس نتیجے پر بآسانی پہنچ سکتا تھا کہ ان کی شخصیت متانت،سنجیدگی اور کم گوئی سے عبارت تھی۔نہ تو علمیت کی دھاک کے لیے کبھی کوشاں رہے اور نہ کبھی اپنے کاموں کا بکھان کرتے نظر آئے۔حالانکہ شعبہ کے علاوہ  ادبی دنیا میں انھیں کام کرنے کے بہت سے مواقع میسر آئے مگر ہمیشہ اپنی کم سخنی کو ہی حرز جاں بنائے رکھا۔
یشونت راؤ چوان مہاراشٹر اوپن یونی ورسٹی(ناسک) میں نصابی کتب تیار کرنے کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی اس میں مجھے بھی ان کے ساتھ شرکت کا موقع ملا۔کتابوں کی تیاری کے لیے باقاعدہ ورکشاپ کا انعقاد ہوتا۔اس موقع پراسباق کی تیاری،اس کے لیے مناسب ہدایات،کتاب کا کیا نام رکھا جائے اور اکائیوں کو کس ترتیب میں، ورکشاپ کے دوران مباحثے ہوتے،کبھی کبھی تو ایک اکائی کا نام طے کرنے میں گفتگو طویل ہوجاتی،وہ بھی ان بحثوں میں شریک ہوتے اور اپنی رائے کا اظہارکرتے۔ایم اے پروگرام کے لیے ڈرامے کے فن پر کتاب کا جو خاکہ انھوں نے مرتب کیا تھا جب ان کے سامنے ہی اس پر گفتگو ہوئی اور بہت سی اکائیوں کو تبدیل کرنے کا مشورہ دیا گیا تو بہت خندہ پیشانی کے ساتھ اس کو نہ صرف قبول کیا بلکہ یہ کہا کہ کتاب کا خاکہ اب پہلے سے بہتر ہوگیا ہے۔بزرگ اور سینئر استاد ہونے کے باوجود کبھی اپنی رائے کو حرف آخر نہیں سمجھتے۔کاموں یا کارناموں کی شاید ہی کوئی فہرست تیار کی ہو۔ان کے لیے یہی بات باعث مسرت تھی کہ وہ اپنے طلبہ میں بہت مقبول ہیں۔ان کے خلوص اور طلبہ کے تئیں ان کے رکھ رکھاؤ سے سب واقف تھے۔نرم خوئی ان کا وطیرہ تھا۔ بہت شگفتہ انداز میں گفتگو کرتے۔طنز وتعریض یا کسی کے لیے پریشانی کا سبب بننا ان کے ادبی مسلک میں نہیں تھا۔
 تصنیف و تالیف کا بھی فریضہ
پروفیسر شاہد حسین نے درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کا بھی فریضہ انجام دیا۔ان کی متعدد تصنیفات کے کئی ایڈیشن ان کی زندگی میں ہی شائع ہوئے۔ڈرامہ اور ڈرامہ شناسی ان کی تحقیق کا مرکزی موضوع تھا۔اس میدان میں انھوں نے نہ صرف ڈرامے کی تنقید و تاریخ اور روایت کو موضوع بنایا بلکہ ڈرامے بھی لکھے۔ یہ کام انھوں نے اس انہماک کے ساتھ کیا کہ ایک ڈرامہ شناس کے طورپر مشہور ہوئے اور اس فن میں اپنی پہچان بنائی۔
”اندر سبھا کی روایت“ اور”ڈرامہ فن اور روایت“ دراصل ڈرامہ شناسی کی راہیں ہیں جو اس فن سے تعلق رکھنے والوں کا رشتہ قدیم سے جدید تک قائم کرتی ہیں۔اور اس کی علمی و عملی باتوں سے واقف کراتی ہیں۔ان کی کتاب ”سید امتیاز علی تاج“(مونوگراف)ڈرامے کی ایک ممتاز شخصیت کو جاننے اور سمجھنے کا معتبر ذریعہ ہے۔جبکہ ”اک طرفہ تماشا“ان کے ڈراموں کا مجموعہ ہے۔اس کتاب کو ڈرامے سے ان کے بے لوث تعلق اور قربت کا اظہارقرار دیا جاسکتاہے۔
پروفیسر شاہد حسین کو اردو کے ممتاز ادیب اور دانشور پروفیسر محمد حسن کی رہنمائی میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ممکن ہے ان کی تربیت کے سبب ہی ڈراموں کے میدان کا انتخاب انھوں نے کیا ہوگا۔ اس میدان میں انھوں نے قابل قدر کارنامے انجام دیے۔واضح رہے کہ پروفیسر محمد شاہد حسین کی ادبی شخصیت کے ابتدائی خدوخال پروفیسر احمر لاری کی تربیت میں نمایاں ہوئے تھے۔ جس کا اظہار اور اعتراف انھوں نے اپنی کتابوں میں بھی کیا ہے۔ 
پروفیسر محمد شاہد حسین کے تصنیفی کارناموں میں ”ابلاغیات“کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔یہ کتاب پہلی بار 2004میں شائع ہوئی تھی۔ایسے خوش نصیب مصنفین بہت کم ہوتے ہیں جن کی زندگی میں ان کی کتابوں کے ایک سے زائد ایڈیشن شائع ہوجائیں۔یہ بہر حال مسرت کا موقع تھا۔ جامعات کے شعبہ ہائے اردو میں صحافت کا پرچہ بطور نصاب بہت پہلے شامل ہوچکا تھا۔اردو والے روزگار کے طورپر صحافت کے میدان کا بھی انتخاب کررہے تھے۔اخبارات کے علاوہ ریڈیواور ٹی وی کے امکانات ان دنوں روشن تھے۔ اردو کے بہت سے طلبہ نے اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کا آزمایا اور اس سے فائدہ بھی اٹھایا۔ویسے بھی ادب اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔
اردوادب میں ایسی بہت سی شخصیات رہی ہیں جن کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ انھیں کس طورپر یاد کیا جائے۔ایک ادیب یا صحافی۔اس ذیل میں خواجہ حسن نظامی،مولانا محمد علی جوہر،مولانا ظفر علی خاں،مولانا ابو الکلام آزاد،مولانا حسرت موہانی وغیرہ کانام لیا جاسکتا ہے۔آزادی کے بعد جیسے جیسے جامعات میں اردو کے شعبہ فروغ پاتے گئے وہاں ادب کے ساتھ ساتھ صحافت کو بھی نصاب کا حصہ بنایا گیا۔نصابی ضرورتوں کے تحت جو کتابیں منظر عام پر آئیں اور طلبہ نے جن کتابوں سے فائدہ اٹھایا ان میں ان عوامی ذرائع ترسیل(اشفاق محمد خاں)ٹیلی ویژن نشریات (انجم عثمانی)رہبر اخبار نویسی،(سید اقبال قادری)ابلاغیات (پروفیسرمحمد شاہد حسین)بعد کے دنوں میں ”ریڈیو نشریات:تاریخ،اصناف اور پیش کش“ (ڈاکٹر زبیر شادا ب)بھی اسی زریں سلسلے کا حصہ بن گئی۔
 ”ابلاغیات“کے سات ایڈیشن 
میڈیا میں جس طرح ترقی ہوئی اور دیکھتے دیکھتے جس طرح پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہماری زندگی کا حصہ بنتے گئے اردو کے مصنفین نے ابتدا میں ہی اس کو محسوس کرلیا تھا اور کتابیں تیار کیں۔البتہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر الگ الگ لکھا گیا۔انجم عثمانی صاحب کا تعلق ٹیلی ویژن سے تھا۔وہ اس کی فنی باریکیوں سے عملاً واقف تھے اسی لیے ان کی کتاب اپنے موضوع پر بہت اہم ثابت ہوئی اوروہ مقبول بھی ہوئی۔پروفیسر شاہد حسین نے میڈیا کی ضرورتوں اور نصاب کو سامنے رکھ کر ایسی کتاب تیار کی جس میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے مباحث و مبادیات کو یکجا کردیا۔انھوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی تاریخ و روایت کے ساتھ اس کے اہم علمی مباحث اور اصطلاحات کو بھی کتاب کا حصہ بنایا۔بعد کے ایڈیشن میں اردو سنیما (1947تک)کا اضافہ کیا گیا۔اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ”ابلاغیات“ نے نصابی ضرورتوں کے ایک بڑے حصے کی تکمیل کی اور دیکھتے دیکھتے یہ کتاب صحافت کے طلبا کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہوئی۔چونکہ پروفیسر شاہد حسین کتاب کے متعدد مباحث میں ترمیم واضافہ کرکے اسے بہتر بناتے رہے اس لیے بھی اس کتاب سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔اس کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک ”ابلاغیات“کے سات ایڈیشن منظر عام پر آچکے ہیں۔
پروفیسر شاہد حسین میڈیاکاشاید ہی حصہ رہے ہوں مگر انھوں نے اس شعبہ کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا۔ممکن ہے ان کی تصنیفات و تالیفات کا مطالعہ کرنے والوں کو ان کے یہاں براہ راست ادبی مباحث نہ ملیں۔شعری مباحث اور فکشن پر ان کی تحریریں کم ملیں گی۔یہ ان کا میدان بھی نہیں تھا۔دراصل انھوں نے اپنا ادبی سروکار ان مباحث سے رکھاجو ادب کا حصہ ہوتے ہوئے بھی براہ راست ادبی نہیں کہی جاسکتے۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے اپنے لیے جو میدان منتخب کیا اس میں امتیاز حاصل کیا اور اپنی تحریروں کو اس لائق بنادیا کہ کلاس سے باہر بھی ان سے استفادہ کرنے والوں کی ایک دنیا آباد ہوگئی ہے۔استاد کا یہی کما ل ہوتا ہے۔
پروفیسر شاہد حسین کا تعلق گورکھ پور سے تھا۔گورکھ پور یونی ورسٹی سے ہی انھوں نے ایم اے کیا تھا۔ڈاکٹریٹ کی ڈگری جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی سے پروفیسر محمد حسن کی نگرانی میں حاصل کی۔اورپھر یہیں کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوگئے۔تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ انھوں نے دلی میں  گذارا اور پھر یہیں کی خاک کا حصہ ہوگئے۔