لکھنؤ کا ایک باکمال شاعر :ہارون شامی

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 22-06-2024
 لکھنؤ کا ایک باکمال شاعر :ہارون شامی
لکھنؤ کا ایک باکمال شاعر :ہارون شامی

 

عمیر منظر
شعبۂ اردو،مانو لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ 
 
لکھنؤ کے شعری منظرنامے پر ایک اہم نام ہارون شامی کا ہے۔ہارون شامی کم و بیش عمر عزیز کی سات دہائیاں دیکھ چکے ہیں۔زمانے کے سرد و گرم کے باوجود ان کی شرافت اور سادگی قابل رشک ہے۔شعرو ادب کا نہایت اعلی ذوق رکھتے ہیں۔انھیں نہ اپنے فن پر بہت ناز ہے اور نہ انھوں نے شہرت ومقبولیت کے لیے ادھر اُدھر کے طریقہ اختیار کیے۔ فنی خود اعتمادی کے ساتھ شعری سفرکے کئی پڑاؤ آئے ایک سچے فن کار کی طرح سے وہ مرحلے سے بہ حسن وخوبی گزرتے رہے۔ خماربارہ بنکوی،پروفیسر ملک زادہ منظور احمد،ڈاکٹر بشیر بدر،بیکل اتساہی،راہی شہابی وغیرہ نے بہت پہلے ان کی شاعری کو ایک خوشگوار اضافہ قرار دیا تھا۔ملک کے اہم ادبی رسائل میں ان کا کلام شائع ہوتا رہتا ہے۔
ہارون شامی کے والہانہ جذب وعشق کا استعارہ شاعری ہے۔ان کی غزلوں میں فکر وخیال کی ایک دنیاآبادہے۔ ایک طرف جہاں روایتی مضامین باندھے گئے ہیں تو دوسری طرف جدت کے نمونے بھی ان کی شاعری میں کم نہیں ہیں۔ ان کا انداز بیان سادہ اور عام فہم ہے۔شعری ہنر مندیوں کو بروئے کار لانے کا سلیقہ ان کے یہاں خوب ہے۔شعری مرکبات اور فارسی لفظیات سے بھی وہ خوب کام لیتے ہیں۔فن کاری کا عمدہ نمونہ تو یہی ہے کہ جہاں جس لفظ کی ضرورت ہو شاعراسی کا استعمال کرے اور اس طرح کہ شعر میں استعمال ہونے والا ہر لفظ بامعنی ہو۔چند اشعار بطور مثال ملاحظہ فرمائیں  ؎
چمک اٹھے شب تیرہ میں برق کی صورت
وہ روشنی ہے کہاں آج خوش جمالوں میں 
یقیں کم ہے بہت کم گماں زیادہ ہے
کہ روشنی ہے بہت کم دھواں زیادہ ہے
جانے کیا شے ہے جو موجود نہیں ہے لیکن
ڈھونڈتا رہتا ہوں میں جس کو گماں سے آگے
چراغ شب تھا کہ وہ ماہتاب تھا کیا تھا
وہ اک خیال تھا یا کوئی خواب تھا کیا تھا
آسمانوں پر نئی دنیا کوئی آباد کر 
یہ تری دنیا نہیں ہے یہ جگہ کچھ اور ہے
ہارون شامی کے ان اشعار سے ان کی قادر الکلامی کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اسے سلیقے کے ساتھ ادا کر جاتے ہیں۔درج بالا اشعار میں انشائیہ اور خبریہ دونوں طرح کے اشعار ہیں اور چوتھے شعر میں استفہام برائے استفہام ہے جبکہ تیسرے شعر میں لفظ کیا استفہام کے ساتھ ساتھ نفی بھی اس میں شامل ہے۔دوسرے شعر کا تضاد قابل توجہ ہے۔پہلے مصرعے میں یقین کے ساتھ گمان اور دوسرے مصرعے میں روشنی کے ساتھ دھواں کا نہایت برمحل استعمال ہے نیز صنعت تضاد فائدہ اٹھاتے ہوئے معنوی جہت کو نمایاں کیا گیا ہے۔اس طرح کی مثالیں ان کے دیگر اشعار میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
 اردو شاعری کے محبوب مضامین میں محبوب کو یاد کرنا اور پھر اسے بھولنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ بے شمار اشعار اس مضمون کے مل جائیں گے اور ہرزمانے میں شعرا کوئی نہ کوئی نیا پہلو نکالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ان مضامین کے اشعار اکثر کیفیت اور روانی کے سبب حافظہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔میر کا بہت مشہور شعر ہے 
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر بازآ
کم بخت پھر وہ دل سے بھلایا نہ جائے گا 
اسی سلسلے میں فراق کا شعر بھی بہت مشہور ہے۔فراق کی غزل بہت سے شعبوں میں ایم اے اردو کے نصاب میں شامل ہے۔یہ شعر بھی بہت مشہور ہے ؎
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں 
ہم تجھے بھول گئے ہوں کبھی ایسا بھی نہیں 
اس نوع کے پامال مضامین کو باندھنا اور کوئی ایسا پہلو نکال لینا کہ شعر یاد رہ جائے معمولی بات نہیں ہے۔ہارون شامی کی اس کوشش سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔یہاں ان کے صرف دو شعر نقل کیے جارہے ہیں ؎
تجھے بھلانے کی کوشش میں خود کو بھول گیا 
یہی سزا ہے مری تجھ سے دل لگانے کی 
دل سے تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے 
الجھی ہوئی ہے پاؤں میں زنجیر کی طرح 
پہلے شعرکی خود فریبی اور دوسرے شعرمیں یاد کو پاؤں کی زنجیر کا پیکر بنادینا قابل داد ہے۔انھوں نے غیر مرئی شے کو مرئی بنا دیا ہے۔یہاں یاد پاؤں میں زنجیر بن کر الجھی ہوئی ہے۔ ہارون شامی کے اس انداز اور اسلوب کو بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جس کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے۔یعنی وہ الفاظ کو بہت غور وفکر کرکے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہاں انھوں نے ایک پامال مضمون کو کس طرح روایتی انداز میں باندھا ہے۔پڑھنے والا شعر کی کیفیت اور روانی کی داد بھی دے گا۔اس موضوع پر خمار بارہ بنکوی کا بھی ایک بہت عمدہ شعر ہے۔انھوں نے یاد سے جنگ فرمانے کا کیا خوب پیکر ڈھالا ہے۔
اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں 
مری یاد سے جنگ فرمارہے ہیں 
اسی مضمون سے قریب تر ہارون شامی کے بعض اشعار ملاحظہ فرمائیں 
تجھ کو کھوکر بھی کبھی تجھ سے جدا ہو نہ سکا 
آج بھی دل میں وہی سوز نہاں ہے کہ جو تھا 
میں اپنے آپ سے کچھ دور ہوتا جارہا ہوں 
تری باتو ں کا شاید کچھ اثر ہونے لگا ہے 
دوسرے شعر میں شاید کچھ اثر ہونے لگا ہے کا فقرہ شعر کو بلند کررہا ہے۔یہ منزل بھی خود فریبی کی ہے مگر اس کاپتا نہیں ہے۔غزل کے ان شعروں سے ہارون شامی کے انداز واسلوب کو سمجھا جاسکتا ہے۔
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے ہارون شامی کے دوسرے مجموعہ کلام ’عکس‘ پر رائے دیتے ہوئے لکھا ہے:
ہارون شامی اردو غزل کے روایتی موضوعات کے امین ومحافظ ہونے کے ساتھ ساتھ جدید میلانات کے بھی شارح اور ترجمان ہیں۔اور انھیں اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ان کی آواز ماضی کے نہاں خانوں سے اٹھ کر جدید اور عصری میلانات سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔اور غزل فنی سطح پر روایات کے اپنا رشتہ جوڑے ہوئے جدید میلانات اور خیالات کی ترجمان بن جاتی ہے۔ 
ہارون شامی نے اپنی شاعری میں لفظ خواب کا استعمال کثرت سے کیا ہے۔یہ لفظ کہیں تو اپنے اصل یعنی لغوی معنی میں استعمال ہوا تو کہیں یہ لفظ خواہش اور آرزو کے معنی میں بھی ہے۔
ساتھ جینے اور مرنے کے کبھی دیکھے تھے خواب 
ان حسیں خوابوں کی یہ پرچھائیاں ہیں کچھ تو ہے 
چراغ شب تھا کہ وہ ماہتاب تھا کیا تھا 
وہ اک خیال تھا یا کوئی خواب تھا کیا تھا
لفظ خواب کی دیگر جہتیں ملاحظہ کریں 
دنیا میں ہر کوئی مجھے ہنستا ہوا ملے 
ممکن نہیں اگرچہ یہی میرا خواب تھا 
کون ہے جو مرے خوابوں کی گواہی دے گا 
کون ہے میرا مدد گار ابھی دیکھنا ہے 
فن کار لفظوں سے فکر وخیال کی جو دنیا آباد کرتا ہے اس میں بعض لفظ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ان الفاظ میں ایک لفظ خواب بھی ہے۔ہارون شامی نے اس لفظ کے استعمال میں تخلیقی ہنرمندی کے جوہر دکھائے ہیں۔
خواب ہے یا مسلسل جستجو ہے 
زندگی گویا سراب آرزو ہے 
مدت ہوئی نکلے ہوئے خوابوں کے سفر میں 
اب دیکھیے کب آتا ہوں میں لوٹ کے گھر میں 
ان اشعار میں لفظ خواب معنی کے بڑے کینوس کا اشاریہ کہا جاسکتاہے۔کیونکہ یہاں پہلے شعر میں خواب کو مسلسل جستجو سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسرے شعر میں خوابوں کے سفر پر نکلے ہوئے مدت ہوئی ہے۔دیکھا جاسکتاہے کہ اس لفظ کو اس طرح استعمال کیا گیا ہے کہ وہ ایک نئے معنی کا اشاریہ بن جاتا ہے۔علمائے لسانیات کا خیال ہے کہ لفظ کا معنی اس کے محل استعمال میں پوشیدہ ہوتا ہے۔کچھ ایسی ہی صورت یہاں پر بھی ہے۔
لفظ خواب کو خواہش کا پیکر عطا کرنے کی یہ جہت بھی ملاحظہ کریں  
کبھی تنہائی میں جب اندر دیکھتا ہوں 
تو کچھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کے پیکر دیکھتا ہوں 
اس لفظ کے استعمال کی بعض دیگر مثالیں ملاحظہ فرمائیں 
یہ خواب ہی تو ہے مرا سرمایہ حیات
ہر پل شکستہ خواب کا منظر نظر میں ہے 
دنیا کی نظر میں وہ فقط اشک رواں تھا
کچھ خواب بھی شامل تھے مگر دیدہ تر میں 
حادثے لمحہ بہ لمحہ رونما ایسے ہوئے 
جاگتے لمحوں پہ بھی خوابوں کا اندیشہ ہوا 
ہارون شامی کے شعری مجموعہ سے لفظ خواب کی یہ چند مثالیں ہیں۔ابھی مزید اشعار کی گنجائش ہے۔  اس نوع کے بیشتر اشعار ہارون شامی کی فن کاری کے گواہ ہیں اور یہ کہ ان کی شاعری کا سفر اس اعتماد اور یقین کے ساتھ گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اس میں یہ لمحہ حیرت انگیز نہیں ہے بلکہ خوش گوار احساس کا حامل ہے۔
 ہارون شامی بنیادی طور پر انجینئر ہیں۔مگروہ اپنے پیشے سے جس قدر تعلق اور لگاؤ رکھتے ہیں اس سے کہیں زیادہ اپنی زبان اور شاعری سے۔ پیشہ و رانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ اردو شاعری کے گیسو سنوارتے رہے ہیں۔اب جب کہ وظیفہ یاب ہوچکے ہیں۔ 80کی دہائی میں ہارون شامی کا پہلا شعری مجموعہ شرح آرزو کے نام سے شائع ہوا تھا۔ دوسرا مجموعہ عکس کے نام سے 2016میں منظر عام پر آیا،جس کی خاطرخواہ پذیرائی ہوئی، بازگشت ان تیسرا مجموعہئ کلام ہےجو 2022میں شائع ہوا ہے