غالب، آم اور لکھنؤ

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 29-06-2024
 غالب، آم اور لکھنؤ
غالب، آم اور لکھنؤ

 

   ڈاکٹر عمیر منظر
           شعبۂ اردو 
          مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ
     
آم صرف ایک پھل نہیں ہے بلکہ پھل کے ساتھ ساتھ وہ اردو ادب کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ حالی نے مرزا غالب کے اخلاق و عادات میں آم کو ناگزیر قراردیا ہے۔آم سے غالب کی رغبت کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ پورا شہراور اطراف و جوانب کے پرستاران و شاگردان غالب انھیں آم بھیجتے تھے۔خود بھی خریدتے تھے مگر کبھی جی نہیں بھرتا۔غالب اور آم سے متعلق طرح طرح کے واقعے بھی ہیں۔ حالی نے لکھا ہے کہ مولانا فضل حق اور دیگر احباب نے ایک محفل میں جب آم کی مختلف خوبیوں کا ذکر کرکے غالب سے اس بارے میں رائے جاننی چاہی تو غالب نے یہ کہہ کر بات ہی ختم کردی کہ”آم میٹھا ہو اور بہت ہو“۔دروغ برگردن راوی کہ غالب جب کلکتہ جاتے ہوئے لکھنؤمیں کچھ دنوں قیام کیا تھا تو دسہری سے بھی لطف اندوز ہوئے تھے۔اس کے بعد آم سے ان کی رغبت میں مزید اضافہ ہوگیاتھا۔اہل لکھنونے غالب کی اس پسند کا ہمیشہ خیال رکھا۔ آم کے علاوہ منشی نول کشور،پروفیسرمسعود حسن رضوی ادیب،ڈاکٹر کاظم علی خاں اور ماہنامہ فروغ اردو کا غالب صدی نمبر(آٹھ سو صفحات پر مشتمل)وغیرہ سے بھی غالب اور لکھنو کے رشتے کو سمجھاجاسکتا ہے۔
دلی مرزا کو بہت پسند تھی اور وہیں پوری زندگی گزاردی بہت ضروری ہوا تب دلی سے باہر قدم نکالا۔اس شہر نے بھی ان کی نہ صرف قدر کی بلکہ دو دو عمارتیں مرزاغالب سے منسوب ہیں۔ غالب اکیڈمی، بستی حضرت نظام الدین میں غالب کے مزار سے متصل واقع ہے۔یہاں مختلف طرح کے ادبی و ثقافتی پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔سہ منزلہ عمارت میں ایک منزل میں لائبریری ہے اور ایک حصہ غالب کی مختلف یادگاروں کے لیے وقف ہے اور لوگ اسے دیکھنے کے لیے بھی آتے ہیں۔ غالب کے کلام اور ان کی سوانح پر نہ جانے کتنے جلسے،سمینار اور مشاعرہ ہوئے ہوں گے،انھیں شمار نہیں کیاجاسکتا۔غالب انسٹی ٹیوٹ (ایوان غالب مارگ نئی دہلی)غالب سے متعلق ایک ادبی اور تحقیقی ادارہ ہے۔اس ادارہ نے غالب سے متعلق بے شمار کتابیں شائع کی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے مطالعات غالب کو نہ صرف فروغ دیا ہے بلکہ اس نے کئی نسلوں کو اس کی طرف راغب بھی کیا۔ہر برس قومی اور بین الاقوامی سطح پر نہایت اہتمام کے ساتھ یہاں غالب سمینار منعقد ہوتاہے۔غالب کے فیض سے ہی ان کے معاصرین کو بھی یاد کیا جاتا ہے۔اتنے  اہم اداروں کے باوجود دلی میں آم کے حوالے سے غالب کو کم ہی یاد کیا گیا۔سولہ سترہ برس دلی میں قیام کے دوران میں مجھے صرف ایک محفل یاد ہے، جو برسات کے دنوں میں غالب اکیڈمی میں منعقد ہوئی تھی جس میں پنڈت آنند موہن گلزار زتشی دہلوی اور ابرار کرت پوری پیش پیش تھے۔ تقریر و تحریر خوانی کے بعد شعرا نے منظوم خراج عقیدت اور آم کے حوالے سے اشعار پیش کیے۔مزار غالب پر پانی میں آم رکھے ہوئے تھے۔ جلسہ ختم ہونے کے بعد جب لوگ آم کی طرف بڑھے تو پیچھے سے گلزار دہلوی نے بہ آواز بلند کہا کہ ابھی آپ لوگ ٹھہر جائیں فاتحہ بھی ہونی ہے۔ وہاں پہنچ کر گلزار زتشی اور ابرار کرت پوری نے کچھ آم نکال کر غالب کی قبر پر رکھ دیا۔ان آموں کو دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ فاتحہ کیوں ضروری تھی۔
دہلی والوں نے غالب تحقیق سے متعلق شاید ہی کوئی پہلو تشنہ رکھا ہو۔شاہد ماہلی نے تو نوجوان اسکالر کو بھی اس کام پر لگا دیا تھا۔ہندستان میں ریسرچ اسکالرسمینار کی طرح انھو ں نے بہ فیض غالب ہی ڈالی تھی۔اور بطور ثبوت غالب انسٹی ٹیوٹ نے ”غالب اور عہد غالب، نئی نسل کی نظر میں“ کتاب بھی شائع کردی۔اس نسل کواب نئی نہیں کہا جاسکتا۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ اس نسل کا غالب سے رشتے کا کیا حال ہے۔2002میں غالب انسٹی ٹیوٹ نے راقم کو مطالعہ غالب کا موقع فراہم کیا تھا۔لیکن کتاب چونکہ پہلے چھپ چکی تھی اس لیے مطالعات غالب کی نئی نسل میں شامل ہوتے ہوتے رہ گیا اور اب کس منہ سے کہیں.. لکھنؤ میں غالب سے متعلق مضامین تو ایک دو ہی لکھے مگر یہاں ہر برس جولائی میں انجمن ترقی اردو اترپردیش اور ارم ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر اہتمام غالب کے حوالے سے تقریب جشن آم کے اہتمام میں شریک ہونا معمول میں شامل ہے۔برا ہو کرونا کا کہ یہ غالب، آم اور شاعری کا دشمن نکلا۔انھیں تقریبات سے یہ واضح ہوا کہ لکھنؤ میں ملیح آبادی کا مطلب دسہری آم ہے۔
 
لکھنؤ میں جب پہلے پہل آم پارٹی میں شرکت کا موقع ملا تو میزبان نے ہاتھ میں پلیٹ اور چاقو دے کرآگے کا اشارہ کردیا کہ ُادھر جائیں جو آم پسند ہو کھاتے جائیں طبیعت سیر ہوجائے تو جامن بھی ہے اس کے بعد دوسرے تیسرے دور کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ اہل لکھنو صرف شعرو سخن کے قدر دان نہیں ہیں بلکہ آم کو پہچاننے اور کھانے میں بھی بہت مہارت رکھتے ہیں۔ایک دوبرس تو تجربے میں ہی نکل گئے۔دعوت آم کا اہم حصہ  وہ تقریریں اور شاعری ہے جو دعوت سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔لکھنؤ میں آم کی دعوتوں کے دومیزبان بہت مشہور تھے۔مرحوم چودھری شرف الدین اور خواجہ یونس (وفات  مارچ 2019)۔
چودھری شرف الدین کے مکان(حویلی) پر آم اور غالب کے عنوان سے ہر برس جلسہ ہوتا تھا۔ سہیل کاکوروی نے لکھا ہے کہ اس کی بنیاد ادارہ فروغ اردو (لکھنؤ)کے مالک مرحوم شمس علوی (کاکوروی)نے ڈالی تھی۔اس میں نہ صرف شہر کے ادیب وشاعر شریک ہوتے تھے بلکہ اس دوران اگر شہر میں کہیں اور سے کوئی ادیب یاشاعر آجاتا تو اس کو بھی شریک کرلیا جاتا۔چودھری شرف الدین بہت سے لوگوں کو فون کرکے دعوت دیتے۔دعوت تو چودھری صاحب کی حویلی پر ہوتی مگر بینر ہمیشہ انجمن ترقی اردو اتر پردیش کا لگایا جاتا۔اس موقع پر ایک مختصر سا ادبی جلسہ بھی ہوتا جو رفتہ رفتہ ادبی تیوہار کی صورت اختیار کرتاچلاگیا۔یہاں پڑھی گئی بہت سی تحریریں اردو شعرو ادب کا اہم سرمایہ قرارپائیں۔ان میں فرقت کاکوری (غالب قاتلان آم کے نرغے میں)،پروفیسر شاہ عبدالسلام (مرزا محروم اور دعوت آم)پروفیسر خالد محمود(قصیدہ در مدح آم)،منور رانا (لکھنو میں دعوت ملیح آبادکے آموں کی)کی تحریریں بطور خاص مشہور ہوئیں۔چودھری شرف الدین کی دعوت آم کا ایک منظر منور رانا کے الفاظ میں ملاحظہ کریں۔
موسم کی خود سری کے باوجود چودھری صاحب کا لان اردو ادب کے خوش رنگ پھولوں،خوش مذاق احباب،خوش گفتار مقررین اور خوش عقیدہ آم والوں سے بھرا ہوا تھا۔مسند صدارت پر مولانا عبدالباری آسی کے لائق ترین شاگرد اور لکھنؤ اسکول کے سب سے بزرگ اور محترم شاعر حضرت عمر انصاری تشریف فرما تھے۔ان کے برابر میں اردو صحافت کے درخشندہ ستارے اور درجنوں صحافیوں کو الف ب کے پہلے سبق سے آراستہ کرنے والے ممتازصحافی عشرت علی صدیقی صاحب براجمان تھے۔ماہر غالبیات جناب کاظم علی خاں گل افشانی گفتار کی خوش بو بکھیر رہے تھے۔حضرت شاہ عبدالسلام نظامت کے ذریعے لکھنؤ تہذیب کی گل کاری میں مصروف تھے۔پروفیسر خالد محمود بھی تشریف فرما تھے۔نظامت کے ذریعہ پروفیسر شاہ عبدالسلام نے موصوف کو گھیرا تو انھوں نے آم پر ایک خوب صورت نظم پڑھ کر خوب داد بٹوی۔(سفید جنگلی کبوتر ص 208)
محفل آم کا ایک منظر 

چودھری صاحب کے یہاں آموں کے ساتھ جامن کا خاص اہتمام ہوتا تھا اور جب تمام لوازمات سے فارغ ہوکر آنگن سے باہر نکل کر ڈیوڑھی میں داخل ہوتے تو وہاں ایک قلفی والا منتظر رہتا۔غالب کے بقول کس منہ سے شکر کیجیے اس لطف خاص کا۔چودھری شرف الدین کے یہاں آموں کی بے شمار قسمیں ضیافت کے لیے منگوائی جاتی تھیں۔دسہری اور چوساکے علاوہ ایسے آم بھی ہوتے جو شکل وصورت کے اعتبار سے اچھے نہیں ہوتے مگر وہ بہت ہی خوش ذائقہ،اہل لکھنؤ اس سے لطف اندوز ہوتے۔اس موقع پر آم کی بعض قسموں کاذکرپروفیسر شاہ عبدالسلام نے اپنے مخصوص انداز میں کیا ہے جس سے آموں کے مختلف ناموں کا علم ہوتا ہے اور یہ بھی کہ عام طو ر پر ہم لوگ ایک دوہی قسم کے آم پر پورا موسم کو گزار دیتے ہیں۔واضح رہے کہ پروفیسر شاہ عبدالسلام نے یہ تحریر اسی جلسے میں پڑھی تھی۔
پھر ذرا غور سے ادھر ادھر دیکھا تو ایک طرف کسی کو ”حسن آرا“پر نثار ہوتے ہوئے،کسی کو ”حسن افروز“سے بوس وکنار ہوتے ہوئے،کسی کو ”مرگ نینی“سے دست درازی کرتے ہوئے،کسی کو ”کھنی“پر دانت پیوست کرتے ہوئے تو کسی کو ”ثریا“کی شیریں دہنی سے لطف اندوز ہوئے پایا۔دوسری طرف نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ”نیلم پری“،”بے نظیر“،”پکھراج“سبھی لوگوں کی دست درازی سے بے جان ہیں۔(پروفیسر شاہ عبدالسلام شخصیت اور علمی نقوش،ڈاکٹر شاہ محمد فائز مرتبہ ص 226)
جلسہ کی وہ گفتگو جو آم سے متعلق ہوتی تھی خاصی پسند کی جاتی۔یہاں کے جلسوں میں کبھی پروفیسر خان محمد عاطف تو کبھی ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی آم سے متعلق گفتگو کرتے کبھی کسی آم کی نسل کے بارے میں تو کبھی آم سے متعلق کسی اہم موضوع پر کبھی کبھی یہ معلومات مقالہ کی شکل میں لکھ کر لاتے اور آخر میں اس خاص آم کی رونمائی بھی کرتے۔آم کی نسلوں اور ان کی قلموں کے بارے میں انھیں جلسوں سے معلوم ہوا۔یہیں یہ بھی پتا چلا کہ موسم کی معمولی خرابی آم کی فصل پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ایک مقرر نے یہ بھی بتایا کہ’بور‘کے زمانے میں بدلی اور گرج چمک سے آم کی فصل کے خراب ہونے کا اندیشہ رہتا تھا۔یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کم بارش کے نتیجے میں آم کی مٹھاس جاتی رہتی ہے جس کا عملی تجربہ اس گرمی میں ہوا۔چودھری شرف الدین کے جلسے میں پروفیسر خالد محمود نے جو قصیدہ درمدح آم پڑھا تھا اس کے چند منتخب اشعار ملاحظہ کریں۔
شاہ اودھ سے فون پر کل میں نے بات کی 
اسم شریف شاہ کا عبدالسلام ہے 
بولے کہ رازواز تو کچھ بھی نہیں ہے بس 
سنڈے کی شام پانچ بجے اذن آم ہے
دیکھا یہاں جو آکے تو سب بھانت بھانت کے 
آموں کا چار سمت بڑا اژدہام ہے 
میں بھی شریک ہوگیا بوس و کنار میں 
ہر آم کھانے والے کا یہ طرز عام ہے 
چوسا دسہری ہو کہ سفیدہ ہو ایک ایک 
چکنا رسیلا شیریں دہن زرد فام ہے 
ہر سمت گٹھلیوں کے وہ انبار ہائے ہائے 
دل چھلکے چھلکے ہوگیا عبرت مقام ہے 
دل نے کہا میاں یہ کہاں لے کے آگئے 
دعوت نہیں یہ آم کی یہ قتل آم ہے