حیدرآباد میں بسا ’چھوٹا یمن’ نواب کی موت پر کیوں تھا اداس

Story by  شیخ محمد یونس | Posted by  [email protected] | 11 d ago
حیدرآباد میں بسا ’چھوٹا یمن’  نواب کی موت پر کیوں تھا اداس

 

شیخ محمد یونس : حیدرآباد 

حیدرآباد کے نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر کی وفات پریوں تو ہر کوئی اداس اور افسردہ تھا مگر حیدرآباد کے  بارکس اور کنگ کوٹھی میں مقیم عرب کمیونٹی بھی اتنی ہی افسردہ تھی ۔ جس کا سلاطین آ صفیہ سے گہرا رشتہ اور تعلق رہا ہے۔ان دونوں علاقوں کے عوام نے آصف جاہی حکمرانوں کے ساتھ اپنے اسلاف کی اٹوٹ وابستگی کو یاد کیا اور مکرم جاہ بہادر کی وفات پر نہ صرف رضاکارانہ طور پر بند منایا بلکہ سیاہ پرچم بھی نصب کئے۔

شہر حیدر آباد میں علاقہ بارکس عرب اسٹریٹ کے طور پر جانا جاتا ہے یہاں پر عرب قبائیل کی کثیر تعداد مقیم ہے۔ دراصل  آصف جاہی حکمرانوں نے اپنی سلطنت کے تحفظ کے لئے  یمن سےعربوں کو حیدر آباد آنے کی دعوت دی اور انہیں اپنی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا تھا۔ مکرم جاہ بہادر کے پردادا  آصف جاہ ششم نواب میر محبوب علی خان نے یمن سے عرب قبائل  کو بلاکر  ایک ریجمنٹ تشکیل دی تھی ۔آصف جاہی دور میں  عرب قبائل کی کافی حوصلہ افزائی کی گئی۔

یہی وجہ ہے کہ  عرب قبائل نے شہر حیدرآباد کا نہ صرف رخ کیا بلکہ موتیوں کے شہر کو اپنا مسکن بنایا۔جہاں ایک طرف عرب شجاعت ،بہادری اور وفاداری کے لئے مشہور تھے وہیں داخلی حالات کے تناظر میں سلاطین آصفیہ  کو عربوں پر پورا بھروسہ تھا۔

عرب ان کے وفادار اور بااعتماد تھے ۔ابتدا میں عرب کمیونٹی کے افراد مہیشورم  میں مقیم رہے تاہم انتظامی امور میں سہولت کی خاطر انہیں قریبی مقام بارکس میں رہائش فراہم کی گئی تب سے لے کر آ ج تک یہ علاقہ سرزمین عر ب کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے ۔ عربوں کی تقریبا پانچ نسلیں یہاں مقیم رہی ہیں ۔زائد از دوصدیاں گزر گئی ہیں تاہم یہاں عرب قبائل کی ثقافت اور روایت میں کوئی فرق نہیں آیا ان کا لباس اور طور طریقے نہیں بدلے۔

علاقہ بارکس کی تقریباً دو سو سالہ تاریخ ہے  ۔بارکس  کے تعلق سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ یہاں پہلے نظام کے فوج کی بیارکیں تھیں ۔کہا جاتا ہے کہ بار کس ،بیرک اصطلاح کی بگڑی ہوئی شکل ہے تاہم کچھ افراد کا کہنا ہے کہ لفظ بارکس سعودی عرب میں واقع وادی بارکس سے ماخوذ ہے جہاں سے حیدرآباد دکن کے لئے فوجیوں کو طلب کرتے ہوئے ریجمنٹ تشکیل دی گئی تھی۔

نائب صدر بارکس ویلفیر سوسائٹی فیصل بن سعید بام  نے آواز دی وائس کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سلاطین آصفیہ کی دعوت پر ہمارے اسلاف نے لبیک کہا اور حیدرآباد میں سکونت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ عربوں نےحضور نظام کی فوج میں گراں قدر اور ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ نظام کی فوج میں عربوں کو خاص مقام حاصل تھا ۔

انہوں نے کہا کہ سلاطین آ صفیہ اور عرب قبائل میں شروع سے ہی گہرا تعلق رہا ہے جہاں ایک طرف آصف جاہی حکمرانوں نے عربوں پر بھروسہ کیا وہیں عرب فوجیوں نے بھی جاں نثاری  میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ عربوں نے فوج میں مثالی خدمات کی انجام دہی کے ذریعہ اپنی وفاداری کابہترین ثبوت دیا۔فیصل بن سعید بام  نے کہا  کہ یہی جذباتی لگاؤ اور تعلق ہے کہ آج حضور نظام کے نبیرہ مکرم جاہ  بہادر کی وفات پر یہاں کی فضا سوگوار ہے اور عرب کمیونٹی غمگین ہے۔

بارکس کی مشہور شخصیت و سماجی کارکن طلحہ الکثیری نے آواز دی وائس کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نظام دور حکومت میں یمن سے فوجیوں کو طلب کیا گیا تھا۔شہر حیدرآباد میں عرب قبائل کی   سلاطین  آصفیہ نے کافی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ آ صف جاہی حکمران رعایا  پروری کے لیے جانے جاتے تھے نظام ہندو اور مسلمانوں کو اپنی دوآ نکھیں تصور کر تے تھے۔

سلاطین آ صفیہ سے بارکس کے عوام کا جذباتی لگاؤ رہا ہےیہی وجہ ہے کہ جب بھی مکرم جاہ بہادر شہر حیدرآباد کا دورہ کرتے۔عرب قبائیل کی جانب سے مرفہ کے ذریعہ ان کا والہانہ استقبال کیا جاتا ۔انہوں نے کہا کہ آ ج مکرم جاہ بہادر ہمارے درمیان میں نہیں رہے ۔ہماری آ نکھیں اشکبار اور ہمارے دل مغموم ہیں۔