نئی دہلی
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اتر پردیش کے غازی پور میں ایک لڑکی کے مبینہ قتل کے واقعے پر ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ ان کے دورِ حکومت میں بیٹیاں اتنی غیر محفوظ کیوں ہیں۔لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ جس ملک اور ریاست میں والدین کو اپنی بیٹی کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے فریاد کرنی پڑے، وہاں کی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔
غازی پور کے کرنڈا علاقے میں 15 اپریل کو ایک لڑکی کا مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں مرکزی ملزم ہری اوم پانڈے کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس واقعے کے بعد سماج وادی پارٹی کے وفد کے دورے کے دوران دیہاتیوں اور پارٹی کارکنوں کے درمیان پتھراؤ بھی ہوا تھا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ اتر پردیش کے غازی پور میں وشوکرما برادری کی ایک بیٹی کے ساتھ عصمت دری اور بے رحمانہ قتل اور پھر خاندان کو ایف آئی آر درج کرانے سے روکنے کے لیے دھمکیاں اور تشدد۔ ہاتھرس، کٹھوعہ، اناؤ اور اب غازی پور—یہ ایک پیٹرن ہے۔ منی پور کی بیٹی انصاف کا انتظار کرتے ہوئے دم توڑ گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا، "ہر بار ایک ہی چہرہ—متاثرہ دلت، پسماندہ، قبائلی یا غریب۔ ہر بار ایک ہی حقیقت مجرم کو تحفظ، متاثرہ کو اذیت۔ ہر بار ایک ہی خاموشی—اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی، جنہیں بولنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک اور ریاست میں والدین کو اپنی بیٹی کے لیے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بھی مانگنا پڑے، اس حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔
راہل گاندھی نے مطالبہ کیا کہ قصوروار پولیس افسران کے خلاف کارروائی ہو، خاندان کو تحفظ دیا جائے، اعلیٰ سطحی تحقیقات ہوں اور فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ مودی جی، وزیر اعلیٰ صاحب جواب دیں آپ کے دور میں بیٹیاں اتنی غیر محفوظ کیوں ہیں؟
انہوں نے کہا ایسے حالات میں انصاف مانگا نہیں جاتا، چھینا جاتا ہے—اور ہم اسے چھین کر لائیں گے۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری پریانکا گاندھی واڈرا نے بھی ایکس پر کہا، "غازی پور میں ایک لڑکی کے قتل کے معاملے میں پہلے مقدمہ درج کرنے میں ہچکچاہٹ، پھر متاثرہ خاندان کو دھمکیاں اور بااثر لوگوں کی جانب سے افراتفری پھیلانا ظاہر کرتا ہے کہ ریاست میں خواتین کے خلاف جرائم عروج پر ہیں۔ بی جے پی کے دور میں اب یہ ایک غیر اعلانیہ قانون بن چکا ہے کہ جب بھی کسی عورت پر ظلم ہوتا ہے تو متاثرہ کو ہی مزید ستایا جاتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ خواتین کے بارے میں وزیر اعظم مودی کے بڑے بیانات صرف دکھاوا ہیں۔پریانکا گاندھی نے کہا کہ اناؤ ہو، ہاتھرس ہو، پریاگ راج ہو یا غازی پور—جہاں بھی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوئی، بی جے پی اپنی پوری طاقت کے ساتھ متاثرہ کے خلاف اور ظالم کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ ملک بھر کی خواتین اس اندھیر نگری کو دیکھ رہی ہیں۔