ہندوستان تجارت کے پل بنانے میں مصروف ہے: پیوش گوئل

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 25-02-2026
ہندوستان تجارت کے پل بنانے میں مصروف ہے: پیوش گوئل
ہندوستان تجارت کے پل بنانے میں مصروف ہے: پیوش گوئل

 



چنئی
مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے منگل کے روز کہا کہ بڑھتی ہوئی عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہندوستان اپنے عالمی اقتصادی شراکت داریاں مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ہندوستان کو عالمی تجارت کے تقریباً دو تہائی حصے تک ترجیحی تجارتی رسائی حاصل ہے۔
وہ پانچویں قومی برآمدی مسابقتی سمٹ 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جس کا اہتمام کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری نے کیا تھا۔ وزیر نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پروگرام میں شرکت کی، جبکہ سمٹ چنئی      کے ایک نجی فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقد ہوئی۔
ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم کے عنوان سے منعقدہ اس سمٹ میں اعلیٰ سرکاری افسران، پالیسی ساز، سفارت کار، مالیاتی ادارے اور صنعت کے قائدین نے شرکت کی، جہاں ایک ٹریلین امریکی ڈالر کے برآمدی ہدف کے حصول کے لیے ہندوستان کے روڈ میپ پر غور و خوض کیا گیا۔
پیوش گوئل نے کہا كہ جب دنیا غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، تب ہندوستان تجارت، اعتماد اور تبدیلی کے پل تعمیر کرنے میں مصروف ہے اور عالمی تجارت میں ہندوستا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اجاگر کیا۔انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم  مودی کی قیادت میں اب تک نو آزاد تجارتی معاہدے  طے کیے جا چکے ہیں، جو سب ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ہیں۔
وزیر نے کہا كہ آج ہندوستان کو عالمی تجارت کے تقریباً دو تہائی حصے تک ترجیحی رسائی حاصل ہے۔ وزیرِاعظم مودی کے دور میں کیے گئے تمام نو ایف ٹی ایز ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ہیں، جو ہندوستان کے ساتھ مسابقت نہیں کرتیں بلکہ تیز رفتار ترقی کے سفر میں اس کی تکمیل کرتی ہیں۔
پیوش گوئل نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں عالمی تجارت میں ہندوستان کی پوزیشن نمایاں طور پر بدلی ہے۔ آج دنیا یہ نہیں پوچھتی کہ ہندوستان کے ساتھ تجارت کرنی ہے یا نہیں، بلکہ اب ممالک یہ سوال کر رہے ہیں کہ ہم کتنی جلدی ہندوستان کے ساتھ تجارت شروع کر سکتے ہیں اور کاروبار کو کیسے تیزی سے وسعت دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسی دن صرف چھ گھنٹوں کے اندر، ہندوستان نے خلیج تعاون کونسل کے ساتھ ایف ٹی اے مذاکرات کا آغاز کیا، اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے پر بات چیت جاری رکھی، اور چِلی کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی تیاری کی۔
وزیر نے نشاندہی کی کہ آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارتی حجم ان کے متعلقہ ایف ٹی ایز کے بعد دوگنا ہو چکا ہے، جو ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے گہری تجارتی شراکت داری کے فوائد کو ظاہر کرتا ہے۔
برآمدات میں تیزی لانے کے لیے چار نکاتی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے پیوش گوئل نے ایم ایس ایم ایز اور مقامی کلسٹرز تک ایف ٹی اے فوائد کی وسیع تر تشہیر، عالمی معیار کے کوالٹی اسٹینڈرڈز پر ازسرِنو توجہ، زیادہ قدر والی مصنوعات کے لیے ویلیو چین میں آگے بڑھنے، اور ضلع سطح پر برآمدی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے مضبوط کارپوریٹ رہنمائی پر زور دیا۔
سمٹ کا اختتام حکومت اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون کی اپیل کے ساتھ ہوا، تاکہ ہندوستان کو ایک سرکردہ عالمی برآمدی مرکز کے طور پر قائم کیا جا سکے۔