چھترپتی سنبھاجی نگر:مہاراشٹر میں واقع چھترپتی سنبھاجی نگر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے بدھ کے روز ترکمان گیٹ میں واقع فیض الٰہی مسجد کے قریب دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کی گئی انہدامی کارروائی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کارروائی میں قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور وقف جائیداد کو نقصان پہنچا ہے۔
انہدامی کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری زمین وقف کی ہے۔ 12 نومبر کو دہلی ہائی کورٹ نے واقعی ایک فیصلہ دیا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سیو انڈیا فاؤنڈیشن جس کا پس منظر آر ایس ایس سے جڑا بتایا جاتا ہے عدالت گئی۔ عدالت نے سروے کا حکم دیا لیکن اس معاملے میں وقف کو فریق نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دہلی وقف بورڈ کو اس کیس میں فریق بننا چاہیے تھا۔ دہلی وقف بورڈ کو عدالت میں نظر ثانی کی درخواست دائر کرنی چاہیے تھی۔ اس کے نتیجے میں عدالت نے غلط فیصلہ کر لیا۔
اویسی نے مزید کہا کہ اس زمین کا تنازع تاریخی بنیاد رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم نکتہ یہ ہے کہ 1947 میں یہ جگہ مسجد تھی۔ انہوں نے عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون 1991 کا کوئی احترام نہیں کیا جو پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون ہے۔ وقف کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جو کچھ ہوا وہ غلط ہے۔ دہلی وقف بورڈ اور اس کی انتظامی کمیٹی کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے اور تمام حقائق پیش کر کے جوں کی توں صورت حال بحال کرانی چاہیے۔
بدھ کے روز دہلی میونسپل کارپوریشن نے دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر 7 جنوری 2026 کی علی الصبح فیض الٰہی مسجد ترکمان گیٹ اور رام لیلا میدان کے قریب تجاوزات کے خلاف انہدامی کارروائی کی۔ اس دوران پتھراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔ دہلی پولیس کے مطابق تقریباً 25 سے 30 افراد نے مبینہ طور پر پولیس اور میونسپل حکام پر پتھراؤ کیا جس کے بعد 5 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ 5 اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں جنہیں قریبی اسپتال میں علاج فراہم کیا گیا۔ ڈی سی پی سینٹرل ندھن والسَن کے مطابق کارروائی سے پہلے امن کمیٹی سمیت مقامی فریقین کے ساتھ تال میل کی میٹنگیں کی گئی تھیں لیکن چند شرپسندوں نے امن خراب کرنے کی کوشش کی۔
علاوہ ازیں اویسی نے عمر خالد اور شرجیل امام کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت نہ ملنے پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن اور چونکا دینے والی بات ہے کہ ان دونوں کو اب تک ضمانت نہیں ملی۔
یہ بیان اس وقت آیا جب سپریم کورٹ نے گلفیشہ فاطمہ میران حیدر شفا الرحمٰن محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دے دی جبکہ 2020 شمال مشرقی دہلی فسادات سے جڑے مبینہ سازش کے مقدمے میں عمر خالد اور شرجیل امام کو راحت دینے سے انکار کر دیا۔