کولکاتا: مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے اندرونی اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پارٹی کے رکن اسمبلی مدن مترا نے بدھ کے روز ریتابرتا بنرجی کی قیادت والے باغی دھڑے میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ 2006 کی طرح 2026 میں بھی پارٹی کو نئے سرے سے کھڑا کر سکتی ہیں۔
مدن مترا نے جو حال ہی میں ریاستی کمیٹی میں جنرل سیکریٹری مقرر کیے گئے تھے اپنے تمام تنظیمی عہدوں سے استعفیٰ دے کر باغی گروپ میں شمولیت اختیار کر لی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس میں مؤثر انداز میں کام نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے کئی مرتبہ اپنی تشویش پارٹی قیادت کے سامنے رکھی لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
مدن مترا نے کہا کہ ممتا بنرجی کے پرانے ساتھی مسلسل پارٹی چھوڑ رہے ہیں کیونکہ قیادت کی تمام توجہ ابھیشیک بنرجی کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے نہ کہ تنظیم کو مضبوط بنانے پر۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس کسی ایک فرد کی جماعت نہیں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ابھیشیک بنرجی چاہتے ہیں کہ تمام فیصلے صرف ان کی مرضی سے ہوں اور دوسرے رہنماؤں کو کوئی مؤثر کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے پارٹی کی سیاسی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے۔
ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ انہیں کسی کے جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ آج پارٹی کے 18 ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ کچھ لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ آج بھی ایک رہنما پارٹی چھوڑ گیا اور اس نے کل مجھے بتایا تھا کہ اس کے خاندان کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ جو لوگ جانا چاہتے ہیں وہ چلے جائیں۔ اگر میں نے 2006 میں پارٹی کو دوبارہ کھڑا کیا تھا تو 2026 میں بھی ایسا کر سکتی ہوں۔
واضح رہے کہ 2004 سے 2006 کے درمیان ترنمول کانگریس کو مسلسل انتخابی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور 2006 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی طاقت نمایاں طور پر کم ہو گئی تھی۔
ادھر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور باغی دھڑے کے رہنما ریتابرتا بنرجی نے اس اختلاف کو آمریت کے خلاف جدوجہد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک آمریت۔ طاقت کے ارتکاز اور شخصی حکمرانی کے خلاف جبکہ جمہوریت اور اجتماعی فیصلہ سازی کے حق میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید رہنما اس تحریک میں شامل ہو رہے ہیں اور 21 جولائی کی ریلی میں انوبرتا منڈل بھی شریک ہوں گے۔
ریتابرتا بنرجی نے کہا کہ ان کا گروپ اجتماعی قیادت پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے بقول یہ مکالمے اور اجتماعی فیصلوں کی سیاست ہے جبکہ دوسری جانب صرف یک طرفہ فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
باغی رہنما چندریما بھٹاچاریہ نے بھی کہا کہ ان کے گروپ میں تجربہ کار منتظمین مسلسل شامل ہو رہے ہیں جس سے ان کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد شخصیت پرستی کے بجائے اجتماعی قیادت کو فروغ دینا ہے۔
دوسری جانب ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس نے الزام لگایا کہ مدن مترا نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے دباؤ میں آ کر پارٹی چھوڑی ہے۔
ٹی ایم سی رہنما کنال گھوش نے کہا کہ مدن مترا کی اہلیہ اور بیٹے کو گزشتہ روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے طلب کیا تھا اور غالباً اسی دباؤ کے باعث انہوں نے وفاداری تبدیل کی۔ انہوں نے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے مبینہ استعمال کا بھی الزام عائد کیا۔
اپنے بھتیجے ابھیشیک بنرجی پر ہونے والی تنقید کے جواب میں ممتا بنرجی نے کہا کہ آج باغی رہنماؤں کو ابھیشیک برے لگ رہے ہیں لیکن وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ان کی اہلیہ کو اپنے بچوں کے ساتھ مرکزی تفتیشی ایجنسی کے دفتر جانا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ابھیشیک سے کوئی غلطی ہوئی بھی تھی تو انہوں نے اس کا سامنا کیا اور آج وہ شیر کی طرح لڑ رہے ہیں۔
یہ اختلافات 2026 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شکست کے بعد شدت اختیار کر گئے جب ریتابرتا بنرجی کی قیادت میں کم از کم 58 ارکان اسمبلی پر مشتمل ایک باغی گروپ سامنے آیا اور اس نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا۔
باغی دھڑے نے 21 جولائی کے یوم شہدا سے قبل ایک اجلاس بھی منعقد کیا۔ اس دن 1993 میں بائیں محاذ کی حکومت کے دوران یوتھ کانگریس کے 13 کارکن پولیس فائرنگ میں مارے گئے تھے جن کی یاد میں ہر سال پروگرام منعقد کیا جاتا ہے۔
اس اجلاس میں حال ہی میں باغی دھڑے میں شامل ہونے والے انوبرتا منڈل بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی پارٹی چھوڑنے کا ذمہ دار ابھیشیک بنرجی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل بھی جانا پڑا اور پارٹی کے زوال کے ذمہ دار بھی ابھیشیک بنرجی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے کئی مرتبہ ممتا بنرجی کو صورتحال سے آگاہ کیا لیکن انہوں نے ان کی بات نہ سنی۔
ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس پورے تنازعے سے خود کو الگ رکھتے ہوئے کہا کہ اسے ترنمول کانگریس کے اندرونی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی جنرل سیکریٹری لاکٹ چیٹرجی نے کہا کہ کون کس جماعت میں جا رہا ہے یہ ان کا مسئلہ نہیں۔ ان کے مطابق ان کی جماعت کی توجہ صرف عوام کی ترقی پر ہے اور ترنمول کانگریس تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
دریں اثنا ترنمول کانگریس کے دونوں دھڑوں نے 21 جولائی کو الگ الگ ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔