کولکتہ
مغربی بنگال کے گورنر آر این روی نے پیر کے روز ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت کی پہلی کابینہ توسیع کے دوران 35 اراکینِ اسمبلی کو وزارت کا حلف دلایا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی وزراء کونسل میں وزیروں کی مجموعی تعداد 41 ہو گئی ہے۔
بی جے پی کے 13 اراکینِ اسمبلی نے کابینہ وزیر کے طور پر حلف اٹھایا، جبکہ 3 اراکین کو وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور 19 دیگر کو وزیر مملکت کے طور پر وزراء کونسل میں شامل کیا گیا۔
حلف برداری کی تقریب یہاں لوک بھون میں منعقد ہوئی، جس میں وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری، موجودہ وزراء اور ریاستی انتظامیہ کے سینئر افسران شریک ہوئے۔نو منتخب بی جے پی اراکینِ اسمبلی سوپن داس گپتا، شنکر گھوش، ارجن سنگھ، تاپس رائے، شردوت مکھرجی اور جگن ناتھ چٹوپادھیائے سمیت کئی رہنماؤں نے کابینہ وزیر کے طور پر حلف لیا۔
اس کے علاوہ دودھ کمار منڈل، دیپک برمن، منوج اوراؤں اور گوری شنکر گھوش نے بھی کابینہ وزیر کے طور پر حلف اٹھایا۔بی جے پی اراکینِ اسمبلی راجیش مہتا، اندرنیل خان اور مالتی راوا رائے نے سویندو ادھیکاری حکومت میں وزیر مملکت (آزادانہ چارج) کے طور پر حلف لیا۔
وزیر مملکت کے طور پر حلف لینے والوں میں جوئیل مرمو، اشوک ڈنڈا، آنند مئے برمن، کوشک چودھری، گارگی داس گھوش، بھاسکر بھٹاچاریہ، دیباکر گھرامی اور سمنہ سرکار شامل ہیں۔بی جے پی کے شانتنو پرمانک، پورنیما چکرورتی اور اُمیش رائے نے بھی وزیر مملکت کے طور پر حلف اٹھایا۔35 نئے اراکین کو وزراء کونسل میں شامل کیے جانے کے بعد وزیروں کی تعداد 41 ہو گئی ہے، جو 294 رکنی اسمبلی میں کسی حکومت کے لیے مقررہ زیادہ سے زیادہ تعداد سے صرف تین کم ہے۔
سویندو ادھیکاری نے 9 مئی کو وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، بی جے پی کی مرکزی قیادت اور قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی موجودگی میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔سویندو ادھیکاری کے ساتھ بی جے پی اراکینِ اسمبلی دلیپ گھوش، اگنی مترا پال، نسیتھ پرمانک، اشوک کیرتنیا اور خودیرام ٹوڈو نے بھی وزیر کے طور پر حلف لیا تھا۔
وزراء کونسل میں نئے اراکین کو شامل کرنے کے معاملے پر سویندو ادھیکاری اور بی جے پی کی ریاستی اکائی کے صدر سمیک بھٹاچاریہ نے گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں پارٹی کی مرکزی قیادت کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کی تھیں۔ریاست میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 294 رکنی اسمبلی میں 208 نشستیں حاصل کیں، جس کے ساتھ ہی ترنمول کانگریس کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔
اس کامیابی کے ساتھ بی جے پی نے مشرقی ہندوستان میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی کامیابی بھی درج کی۔