نئی دہلی: حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے دوران اب تک 16 ہندوستانی شہری، جن میں 10 بحری کارکن (سی فاررز) شامل ہیں، اپنی جان گنوا چکے ہیں، جبکہ 75 ہندوستانی زخمی ہوئے ہیں۔ راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں عمان میں 8، متحدہ عرب امارات میں 4، کویت میں 2، سعودی عرب میں ایک اور عراق میں ایک ہندوستانی شہری شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات میں 32، عمان میں 24، کویت میں 13، قطر میں 4، سعودی عرب میں ایک اور اسرائیل میں ایک ہندوستانی شامل ہے۔ وزیر مملکت نے واضح کیا کہ ایک علیحدہ حادثے میں قطر کے راس لفان گیس پلانٹ میں 12 ہندوستانی شہری ہلاک ہوئے تھے، جن کا تعلق موجودہ مغربی ایشیا کے تنازع سے نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ تہران میں ہندوستانی سفارت خانے نے 2,557 ہندوستانی شہریوں کو ایران سے آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے محفوظ طور پر منتقل کرنے میں مدد فراہم کی، تاکہ وہ وہاں سے اپنے وطن واپس جا سکیں۔ حکومت کے مطابق زخمی ہندوستانیوں کو مقامی اسپتالوں میں علاج فراہم کیا گیا، جبکہ ہندوستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں نے مقامی حکام اور اسپتالوں سے مسلسل رابطہ رکھ کر متاثرین کی مدد کی، ان کے اہل خانہ سے رابطہ قائم کرایا اور وطن واپسی کے لیے ضروری سہولتیں فراہم کیں۔
وزیر نے بتایا کہ جنگی علاقوں میں جاں بحق ہونے والے بحری کارکنوں کے اہل خانہ کو ڈی جی ایم اے ویلفیئر اسکیم (سی فاررز ویلفیئر فنڈ سوسائٹی) کے تحت 10 لاکھ روپے کی امدادی رقم دی جاتی ہے، جو ضروری جانچ کے بعد جلد از جلد ورثا کو ادا کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ اجتماعی معاہدوں (Collective Bargaining Agreements) کے تحت میری ٹائم یونین آف انڈیا کے ذریعے افسران کے لیے 12 لاکھ روپے اور نیشنل یونین آف سی فاررز آف انڈیا کے ذریعے عملے کے لیے 10 لاکھ روپے تک کے اضافی معاوضے کا بھی انتظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہازوں کی پروٹیکشن اینڈ انڈیمینٹی (P&I) انشورنس سے متعلق دعووں کی کارروائی متعلقہ ریکروٹمنٹ اینڈ پلیسمنٹ ایجنسی انجام دیتی ہے، جبکہ بحری کارکنوں کی ہلاکت سے متعلق معاوضے کی نگرانی وزارتِ بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں کر رہی ہے۔ اب تک 16 میں سے 5 معاملات میں معاوضے کی ادائیگی مکمل ہو چکی ہے۔
قطر کے راس لفان گیس پلانٹ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کو وزیر اعظم قومی امدادی فنڈ سے دو، دو لاکھ روپے کی امداد دی گئی، تاہم حکومت نے کہا کہ قطری حکام کی جانب سے دیے گئے براہِ راست معاوضے کی تفصیلات اس کے پاس موجود نہیں ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ بحران کے دوران مقامی حکومتوں اور وزارتِ شہری ہوابازی کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے ہندوستانی شہریوں کی واپسی کے لیے تجارتی پروازوں، خصوصی پروازوں اور جہاں فضائی حدود بند تھیں وہاں پڑوسی ممالک کے ذریعے ٹرانزٹ ویزا کی سہولت فراہم کی گئی۔ حکومت نے کہا کہ ایسے علاقائی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ سفری مشورے، چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول روم، ہنگامی ہیلپ لائنز اور وزارتِ خارجہ کے ریپڈ ریسپانس سیل کے ذریعے مربوط نظام قائم کیا گیا ہے۔ وزارت مستقبل میں انخلا کی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک نئے ڈیجیٹل ایمرجنسی رسپانس سسٹم کی آزمائش بھی مکمل کر رہی ہے۔