سلی گوڑی::مغربی بنگال کے وزیر دلیپ گھوش نے بدھ کے روز کہا کہ ریاستی حکومت شمالی بنگال کی ترقی پر توجہ دے رہی ہے اور پہاڑی علاقوں میں پنچایت راج نظام متعارف کرانے کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔
اے این آئی سے بات کرتے ہوئے گھوش نے کہا کہ خطے کے لیے کئی ترقیاتی اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا"ہم شمالی بنگال کی ترقی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم پہاڑوں میں پنچایت راج شروع کریں گے اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنائیں گے۔ ہمیں کئی چیزوں پر کام کرنا ہے جن کی پہلے کی حکومت میں کمی تھی۔"
اس سے قبل دلیپ گھوش نے منگل کے روز ممتا نبنرجی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے پارٹی اراکین اسمبلی کے ساتھ بلائی گئی میٹنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "بلڈوزر کلچر" کے خلاف احتجاج کا اعلان اگر ان کی وزارت اعلیٰ کے دوران کیا جاتا تو زیادہ معنی خیز ہوتا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے گھوش نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ بنرجی کو پہلے اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ بنگال میں کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عوام کی تکلیف کو پہلے سمجھا جاتا تو حالات مختلف ہوتے۔
انہوں نے کہا"...پہلے وزیر اعلیٰ کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ بنگال میں کیا ہو رہا ہے۔ اگر جو میٹنگیں اب کی جا رہی ہیں وہ پہلے کی جاتیں اور عوام کی تکلیف کو سمجھا جاتا تو منظر نامہ کچھ اور ہوتا۔"
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹی ایم سی نے 21 مئی کو کولکتہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مبینہ زبردستی بے دخلی اور "بلڈوزر کلچر" کے خلاف احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی کے مطابق احتجاج ہاوڑہ اسٹیشن سیالدہ اسٹیشن اور بالی گنج کے قریب کیا جائے گا جہاں پارٹی رہنما اور کارکن مبینہ طور پر خوانچہ فروشوں اور اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیں گے۔
یہ احتجاج مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابی نتائج کے بعد بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے جہاںبی جے پی نے 207 نشستیں حاصل کرکے ریاست میں ترنمول کانگریس کی 15 سالہ حکمرانی کا خاتمہ کر دیا جبکہ ٹی ایم سی نے انتخابات میں 80 نشستیں حاصل کیں۔