وانگچک نے ناقدین کو سخت جواب دیا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 25-07-2026
وانگچک نے ناقدین کو سخت جواب دیا
وانگچک نے ناقدین کو سخت جواب دیا

 



نئی دہلی: سماجی کارکن سونم وانگچک نے جمعہ کے روز ان ناقدین کو سخت جواب دیا جنہوں نے طلبہ کی حمایت میں نیٹ پرچہ لیک کے خلاف ان کے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھائے تھے۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں وانگچک نے کہا کہ انہوں نے طلبہ کی خاطر 26 دن تک بھوک ہڑتال کی، جس کے دوران ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہوا، پٹھوں کی طاقت متاثر ہوئی اور ان کے اعضا اور دماغ ناقابلِ تلافی نقصان کے قریب پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا، "لداخ کی شدید سردی سے دہلی کی جھلسا دینے والی گرمی میں آ کر اتنی طویل بھوک ہڑتال کرنے کے بعد بھی کیا مجھے کسی سے یہ سرٹیفکیٹ لینا ہوگا کہ میری ہڑتال کتنی خالص تھی، میں نے کس کے ہاتھوں اسے ختم کیا، یا میں نے کوئی سمجھوتہ کیا یا نہیں؟ ایسے خیالات پیدا کرنے والے ذہنوں پر افسوس ہوتا ہے۔"

وانگچک نے مزید کہا کہ وہ کسی کو قصوروار نہیں ٹھہراتے، کیونکہ زیادہ تر لوگ ان حالات سے واقف نہیں جن سے وہ اور ان کا خاندان گزشتہ ایک دو ہفتوں میں گزرے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ کسی کی بات پر یقین کرنے سے پہلے اس کے پس منظر کو ضرور دیکھیں۔ "یہ دیکھیں کہ کہیں وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ تو نہیں یا کسی تعصب کا شکار تو نہیں۔ اگر وہ غیر جانبدار ہے تو ضرور اس کی بات سنیں۔"

وانگچک نے جمعہ کو اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال اس وقت ختم کی جب مرکزی حکومت نے نیٹ امتحان اور ملک کے مسابقتی امتحانی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے انہیں تحریری یقین دہانی دی۔ انہوں نے میڈانتا اسپتال میں مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی موجودگی میں بھوک ہڑتال ختم کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک اور ویڈیو میں وانگچک نے بتایا کہ دونوں مرکزی وزراء انہیں ضروری تحریری ضمانت فراہم کرنے کے لیے آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پہلے زبانی یقین دہانیاں دی گئی تھیں، لیکن انہوں نے باقاعدہ تحریری دستاویز پر اصرار کیا، جس کے باعث ان کی بھوک ہڑتال ختم ہونے میں دو دن کی تاخیر ہوئی۔ دوسری جانب، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے نمائندوں نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد دعویٰ کیا کہ حکومت نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر غور کرنے کے لیے ہفتہ دوپہر تک کا وقت مانگا ہے۔