نئی دہلی: حکومت نے جمعہ کو راجیہ سبھا کو بتایا کہ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق شکایات کا ازالہ تین سطحی شکایات کے ازالے کے نظام کے تحت کیا جاتا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات (آئی اینڈ بی) کو موصول ہونے والی شکایات کو آئی ٹی رولز، 2021 کے مطابق کارروائی کے لیے متعلقہ آن لائن کیوریٹڈ کنٹینٹ (او ٹی ٹی) پلیٹ فارمز کو بھیج دیا جاتا ہے۔
مرکزی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی امور ایل مروگن نے رکن پارلیمنٹ حارث بیرن کے سوال کے تحریری جواب میں ایوان بالا کو یہ معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 25 فروری 2021 کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، 2000 کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیئری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا، ایتھکس کوڈ) رولز، 2021 نافذ کیے تھے۔
ان قوانین کا مقصد ڈیجیٹل میڈیا پر خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے ناشرین اور آن لائن کیوریٹڈ کنٹینٹ یعنی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے لیے ایک ادارہ جاتی نظام قائم کرنا تھا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ان قوانین کے حصہ سوم میں ڈیجیٹل نیوز پبلشرز اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے لیے ضابطۂ اخلاق مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ضابطۂ اخلاق کے تحت او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کو ایسا کوئی مواد نشر کرنے کی اجازت نہیں ہے جو قانون کے تحت ممنوع ہو۔ انہیں مواد کی نوعیت کے حوالے سے احتیاط اور صوابدید کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ موضوعات اور پیغامات، تشدد، عریانی، جنسی مواد، زبان، منشیات اور دیگر نشہ آور اشیا کے استعمال اور خوفناک مواد کی بنیاد پر درجہ بندی بھی کرنا ضروری ہے۔
ایل مروگن کے مطابق آئی ٹی رولز، 2021 کے شیڈول کے حصہ دوم میں مواد کی درجہ بندی سے متعلق رہنما اصول بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن میں نفسیاتی اثرات رکھنے والی اشیا، شراب، سگریٹ نوشی، تمباکو اور قابلِ تقلید رویوں سے متعلق مواد بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے 26 نومبر 2024 کو او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے ناشرین کو منشیات اور نفسیاتی اثرات رکھنے والی اشیا سے متعلق اسٹریمنگ مواد کے حوالے سے ایک ایڈوائزری بھی جاری کی تھی۔