نئی دہلی، 20 جولائی: اتر پردیش حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے رام مندر عطیات میں مبینہ خردبرد کے معاملے میں اپنی اسٹیٹس رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔
یہ رپورٹ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ کے روبرو سیل بند لفافے میں پیش کی گئی۔ اس معاملے کی سماعت پیر کو سپریم کورٹ میں مقرر ہے۔
اس کیس میں اب تک آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ تفتیشی ایجنسیاں مبینہ خردبرد کی مکمل مالی کڑی (منی ٹریل) کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں تاکہ مزید اثاثوں اور اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران آئندہ چند روز میں مزید اہم انکشافات اور برآمدگیوں کی توقع ہے۔
ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق 27 اپریل سے 5 جون 2026 کے درمیان سی سی ٹی وی فوٹیج میں تقریباً 70 مشتبہ واقعات ریکارڈ ہوئے، جن میں رقم گننے والے بعض ملازمین کو نقدی کی گڈیاں چھپاتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داخلی اور خارجی راستوں پر تلاشی کا مؤثر انتظام نہ ہونا، ذاتی سامان کی مناسب نگرانی نہ ہونا اور مختلف عطیہ بکسوں کی رقم ایک ساتھ گننا وہ خامیاں تھیں جنہوں نے مبینہ خردبرد کی راہ ہموار کی۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقات شروع ہونے سے قبل بعض ملازمین سے تقریباً 78.94 لاکھ روپے برآمد کیے گئے تھے، جبکہ 4 جون کو رقم گننے والے کمرے سے منسلک غسل خانے سے مزید 2.25 لاکھ روپے بھی برآمد ہوئے۔
ایس آئی ٹی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر رام مندر سے چاندی کی اینٹیں یا دیگر قیمتی نذرانے غائب ہونے کے دعوؤں کی ابتدائی تحقیقات میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔
دریں اثنا، پولیس نے مرکزی ملزم رام شنکر یادو عرف ٹنو کی 39 گھنٹے کی پولیس ریمانڈ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر رات گئے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر ایک چار پہیہ گاڑی، ایک موٹر سائیکل، سونے کے زیورات، نقد رقم اور اہم مالیاتی دستاویزات بھی برآمد کی ہیں۔