رام پور: اتر پردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کو ایک بڑے انتظامی اقدام کا سامنا ہے۔ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یونیورسٹی کی 38 مبینہ غیر مجاز عمارتوں کو ہٹانے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی محکمہ تعمیرات عامہ نے یونیورسٹی کیمپس کے اندر موجود ایک سڑک پر بورڈ نصب کرکے اسے عوامی استعمال کے لیے سرکاری راستہ قرار دے دیا ہے۔
رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 28 جون کو جوہر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یونیورسٹی کی حدود میں 82 ہزار 309 اعشاریہ 80 مربع میٹر رقبے پر تعمیرات بغیر قانونی منظوری کے کی گئی ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق کیمپس میں موجود 38 عمارتیں یا بلاکس تعمیراتی نقشوں کی منظوری حاصل کیے بغیر تعمیر کیے گئے جبکہ صرف دو عمارتیں ایسی ہیں جن کی تعمیر ضلع پنچایت سے اجازت حاصل کرنے کے بعد کی گئی۔
اتھارٹی نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جوہر ٹرسٹ کے سیکریٹری مقررہ مدت کے دوران ان تعمیرات سے متعلق کوئی منظوری یا دستاویزی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ اب ٹرسٹ کو مزید 15 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ ان 38 عمارتوں کو خود ہٹا دے۔ اگر مقررہ مدت میں ایسا نہ کیا گیا تو اتھارٹی انہدام کی کارروائی شروع کرے گی۔
یہ حکم رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین جو بیک وقت ضلع مجسٹریٹ بھی ہیں نے اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعات کے تحت جاری کیا ہے۔
یہ کارروائی سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما محمد اعظم خان کے اہم منصوبے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف اب تک کی بڑی انتظامی کارروائیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ اعظم خان اس وقت رام پور جیل میں قید ہیں۔
رواں سال مئی میں رام پور کی ایک عدالت نے 2019 کے ایک مقدمے میں ضلع انتظامیہ کے افسران کے خلاف انتخابی مہم کے دوران مبینہ طور پر توہین آمیز اور تنخواہیا سے متعلق ریمارکس دینے کے معاملے میں اعظم خان کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے ان پر 5 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔