یوپی اسمبلی نے خواتین کے ریزرویشن پر خصوصی اجلاس بلایا

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 30-04-2026
یوپی اسمبلی نے خواتین کے ریزرویشن پر خصوصی اجلاس بلایا
یوپی اسمبلی نے خواتین کے ریزرویشن پر خصوصی اجلاس بلایا

 



لکھنؤ
اتر پردیش اسمبلی نے جمعرات کو خواتین اراکین کے لیے ریزرویشن پر بحث کے لیے ایک خصوصی اجلاس طلب کیا۔ بی جے پی رہنماؤں نے سماجوادی پارٹی اور کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ خواتین ریزرویشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کو 2027 کے اسمبلی انتخابات میں خواتین ریزرویشن میں “رکاوٹیں پیدا کرنے” کی سزا ملے گی۔
موریہ نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی اجلاس سے پہلے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ ہوتی ہے اور یہی ہو رہا ہے۔ خواتین کے احترام میں بی جے پی میدان میں ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ ہم آدھی آبادی کو ان کے حقوق دلائیں گے۔ سماجوادی پارٹی، کانگریس، ڈی ایم کے اور ٹی ایم سی نے اس میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں اور انہیں اس کی سزا ملے گی۔ ممتا بنرجی کو 2026 میں سزا مل چکی ہے، جبکہ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کو 2027 میں ملے گی۔
نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے کہا کہہ ناری شکتی وندن ایکٹ کے حوالے سے یہ خصوصی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی جیسی خواتین مخالف جماعتوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔
اتر پردیش کے وزیر انیل راجبھر نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس خواتین کو یہ پیغام دے گا کہ کون سی پارٹی ان کے ساتھ ہے اور کون ان کے خلاف۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور ملک کی ناری شکتی کو یہ جاننے کا حق ہے کہ کون ان کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ یہ اجلاس انہیں واضح پیغام دے گا کہ کون ان کے حق میں ہے اور کون مخالف ہے۔
وزیر اوم پرکاش راجبھر نے کہا کہ تمام تیاریاں مکمل ہیں، آج ناری شکتی وندن ایکٹ پر بحث ہوگی۔وزیر دھرَم پال سنگھ نے اے این آئی سے کہا کہ 2027 میں ناری شکتی ہی اپوزیشن کو جواب دے گی”، جبکہ سوتنترا دیو سنگھ نے کہا: “ناری شکتی نے سماجوادی پارٹی اور کانگریس کو مسترد کر دیا ہے، اور آنے والے وقت میں انہیں سبق سکھائے گی۔مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور دہلی کی اسمبلیوں میں بھی خواتین کو بااختیار بنانے اور ریزرویشن کے موضوع پر خصوصی اجلاس منعقد کیے گئے، جبکہ اوڈیشہ میں بھی آج ایسا ہی اجلاس بلایا گیا ہے۔
دوسری جانب سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں نے اتر پردیش اسمبلی کے اس خصوصی اجلاس کے خلاف احتجاج کیا۔ ایس پی رہنما زاہد بیگ نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس بل کو پارلیمنٹ میں مسترد کیا جا چکا ہے، اس پر بحث کے لیے اسمبلی بلانے کا کوئی جواز نہیں۔
زاہد بیگ نے کہا کہ آج انہوں نے اسمبلی بلائی ہے ایک ایسے بل پر بحث کے لیے جو پارلیمنٹ میں مسترد ہو چکا ہے۔ اس کے لیے اسمبلی بلانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ بی جے پی عوام اور خواتین کو گمراہ کر رہی ہے تاکہ اس قانون کو نافذ نہ کیا جا سکے۔ اکھلیش یادو کا مطالبہ ہے کہ پسماندہ طبقات کو بھی ریزرویشن دیا جائے۔ بی جے پی نے شمال اور جنوب میں تنازع پیدا کرنے کے لیے یہ سب کیا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے رہنما سنگرام سنگھ یادو نے مرکز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ریزرویشن کے نام پر حلقہ بندی (ڈیلیمٹیشن) بل لایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن نے اسمبلی میں بحث کے لیے زیادہ وقت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔یادو نے کہا کہ حکومت نے صرف پانچ گھنٹے کی بحث قبول کی ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے وقت بڑھانے کا مطالبہ کیا، لیکن ہماری باتوں کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔ وہ ملک اور ریاست کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے خواتین ریزرویشن کے نام پر ڈیلیمٹیشن بل پیش کیا، اسی وجہ سے یہ مسترد ہوا، اور اب سماجوادی پارٹی کو خواتین مخالف کہا جا رہا ہے۔ ہماری پارٹی ہمیشہ برابری کی بات کرتی ہے اور کمزور، پسماندہ، دلت، قبائلی، مسلمان اور خواتین کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ ہم بی جے پی کو بے نقاب کریں گے۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب لوک سبھا میں 17 اپریل کو اپوزیشن جماعتوں نے آئینی ترمیمی بل کے خلاف ووٹنگ کی۔ لوک سبھا میں آئین (131ویں ترمیمی) بل، ڈیلیمٹیشن بل اور یونین ٹیریٹریز قوانین (ترمیمی) بل کو ایک ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ ووٹنگ میں 298 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
ان بلوں کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندی کرنا، ناری شکتی وندن ادھینیم 2023 کو نافذ کرنا اور لوک سبھا و ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کرنا تھا۔ اپوزیشن نے خواتین ریزرویشن کی حمایت کی، لیکن حلقہ بندی کے عمل پر تنقید کی۔