جبل پور: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے گزشتہ سال چھندواڑہ میں مبینہ طور پر زہریلے کھانسی کے شربت کے معاملے میں گرفتار دو میڈیکل نمائندوں (میڈیکل ریپریزنٹیٹوز) کو مشروط ضمانت دے دی ہے۔ اس واقعے میں 20 سے زائد بچوں کی جان چلی گئی تھی۔ بدھ کے روز ملزمان کے وکیل نے بتایا کہ جسٹس اجے کمار نرنکاری کی سنگل بینچ نے منگل کو ستیش ورما اور شلیش سنگھ پانڈیا کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دونوں کا زہریلے کھانسی کے شربت کی تیاری سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صرف میڈیکل نمائندے کی حیثیت سے کمپنی کو ادویات کی سپلائی کے آرڈر دیتے تھے اور انہیں دوا میں کسی ملاوٹ یا خرابی کا علم نہیں تھا۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ دونوں کا دوا کی ذخیرہ اندوزی، تقسیم یا تلفی میں بھی کوئی کردار نہیں تھا۔
ملزمان کے وکیل سنکلپ کوچھر کے مطابق پولیس اپنی تحقیقات مکمل کرکے متعلقہ دستاویزات عدالت میں پیش کر چکی ہے، جبکہ مقدمے کی سماعت میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ستیش ورما اکتوبر 2025 اور شلیش سنگھ پانڈیا نومبر 2025 سے عدالتی حراست میں تھے۔
دوسری جانب حکومت نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں ملزمان متنازع کھانسی کے شربت کی تشہیر، اس کی سپلائی چین اور ڈاکٹروں کے ذریعے نسخے لکھوانے کے نیٹ ورک کے فروغ میں ملوث تھے۔ استغاثہ کے مطابق دونوں ملزمان مرکزی ملزم ڈاکٹر پروین سونی اور دوا ساز کمپنی کے درمیان اہم رابطہ تھے، اور تحقیقات کے دوران ان کے خلاف خاطر خواہ شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کو مشروط ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2025 میں ضلع چھندواڑہ کے متعدد بچے کولڈرف (Coldrif) کھانسی کا شربت پینے کے بعد بیمار ہوگئے تھے۔ متاثرہ بچوں میں قے، پیشاب بند ہونے اور بخار جیسی علامات ظاہر ہوئیں۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ شربت میں ڈائی ایتھائلین گلائکول (Diethylene Glycol) نامی زہریلا کیمیکل موجود تھا، جو گردوں کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔
اس معاملے میں دوا ساز کمپنی کے مالک اور ایک سرکاری ڈاکٹر، جس پر یہ شربت تجویز کرنے کا الزام تھا، کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔