واشنگٹن
امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق بدھ (مقامی وقت) کو ایک فون کال کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی7 ممالک کے رہنماؤں سے کہا کہ ایران جلد ہی ہتھیار ڈالنے والا ہے۔ رپورٹ میں اس کال میں شریک جی7 کے تین ممالک کے حکام کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ کال اس وقت ہوئی جب ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا اور شہریوں سے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کی اپیل کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نجی سطح پر بھی جنگ کے نتائج کے بارے میں اتنے ہی پُراعتماد ہیں جتنا وہ عوامی بیانات میں دکھائی دیتے ہیں۔تاہم ٹرمپ نے ایران کے اسلامی نظام کے خلاف اپنی مہم میں مکمل طاقت استعمال کرنے کے امریکی ارادے کا اشارہ دیا، ایران کو خبردار کیا اور کہا کہ رپورٹس میں جو بھی دعوے کیے جائیں، مگر امریکہ اس جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا كہ ہم ایران کی دہشت گرد حکومت کو عسکری، معاشی اور ہر دوسرے طریقے سے مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں، لیکن اگر آپ نیویارک ٹائمز جیسے ناقص اخبارات پڑھیں گے تو آپ کو یہ غلط فہمی ہوگی کہ ہم جیت نہیں رہے۔ ایران کی بحریہ تقریباً ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ اب عملاً موجود نہیں رہی، میزائل، ڈرون اور دیگر ہتھیار تباہ کیے جا رہے ہیں اور ان کے رہنماؤں کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ ہمارے پاس بے مثال حملہ آور طاقت، لامحدود اسلحہ اور کافی وقت موجود ہے۔ دیکھیے آج ان پاگل مجرموں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ وہ گزشتہ 47 برس سے پوری دنیا میں بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور اب میں، ریاستہائے متحدہ کا 47واں صدر ہونے کے ناطے، انہیں ختم کر رہا ہوں۔ میرے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔
ادھر ایران کی فوجی تنظیم اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے اپنے فوجی آپریشن آپریشن ٹرو پرامس 4 کے 44ویں مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مرحلے کے دوران اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں کئی اہم فوجی اڈوں اور مغربی ایشیا میں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔