نئی دہلی
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کیرالہ کے تھریسور میں اپنے روڈ شو کو "یادگار" قرار دیا۔
اتوار کو ہوئے اپنے روڈ شو کی ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے ‘ایکس’ پر لکھا، "تھریسور، شکریہ! کل کا روڈ شو یادگار رہا۔ یہ اس کی اہم جھلکیاں ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے تھریسور میں روڈ شو اور پالکڑ میں ایک عوامی ریلی کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی 2026 کیرالہ اسمبلی انتخابات مہم کا آغاز کیا۔انہوں نے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے دہائیوں تک ریاست کو "لوٹا" اور مبینہ طور پر اقتدار کی بندر بانٹ کی۔
پالکڑ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف نے دہائیوں تک کیرالہ کو لوٹا ہے اور آپس میں سمجھوتہ کیا ہوا ہے کہ کچھ سال ایل ڈی ایف حکومت چلائے گا اور اپنی جیبیں بھرے گا، پھر چند سال بعد یو ڈی ایف لوٹ مار کرے گا۔ ہمارا کیرالہ ان کے اس گٹھ جوڑ میں پھنس گیا ہے۔ آج کل کمیونسٹ اور کانگریس مل کر ایک نیا پروپیگنڈا چلا رہے ہیں، جہاں کمیونسٹ کہتے ہیں کہ کانگریس بی جے پی کی بی ٹیم ہے اور کانگریس کہتی ہے کہ کمیونسٹ بی جے پی کی بی ٹیم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے خود بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اس کیرالہ انتخاب میں اگر کوئی ایک ٹیم ‘اے ٹیم’ ہے تو وہ صرف بی جے پی ہے۔کانگریس اور سی پی آئی (ایم) کے ایک دوسرے کو بی جے پی کی "بی ٹیم" قرار دینے پر وزیر اعظم نے کہا کہ آج عوام کے سامنے یہ حقیقت آنی چاہیے کہ آنے والے انتخابات میں کون کس کی بی ٹیم ہے۔ پورے ملک میں یہ ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد میں ہیں۔ بہار کو دیکھیں، جھارکھنڈ، آندھرا پردیش، منی پور، تریپورہ، آسام—یہ سب جگہ انڈیا اتحاد میں ساتھ ہیں، حتیٰ کہ تمل ناڈو میں بھی ساتھ ہیں۔ لیکن یہاں کیرالہ میں کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیاں ایک دوسرے کو گالیاں دے رہی ہیں، اس لیے آپ کو ان دونوں سے محتاط رہنا چاہیے۔
کیرالہ اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔کیرالہ میں روایتی طور پر 1982 سے ہر پانچ سال بعد حکومت بدلنے کا رجحان رہا ہے، جہاں اقتدار لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کے درمیان آتا جاتا رہا ہے۔ تاہم 2021 میں یہ رجحان ٹوٹ گیا جب وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کی قیادت میں ایل ڈی ایف مسلسل دوسری بار اقتدار میں واپس آیا۔
جہاں ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف انتخابات میں اہم دعویدار ہیں، وہیں بی جے پی تھرواننت پورم کارپوریشن انتخابات میں اپنی تاریخی جیت کے بعد اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی۔