رام بن (جموں و کشمیر): جموں و کشمیر کے ضلع رام بن میں مسلسل بارش کے باعث دریائے چناب میں پانی کی سطح نمایاں طور پر بڑھنے کے بعد پیر کے روز بگلیہار ڈیم کے تین دروازے کھول دیے گئے۔ حکام کے مطابق ڈوڈہ اور کشتواڑ علاقوں میں موسلا دھار بارش کے سبب دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا، جس کے پیش نظر ڈیم کے تین گیٹ کھولے گئے۔
انتظامیہ نے کہا کہ موسم اور دریا کے بہاؤ پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ تمام متعلقہ محکموں کو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل ہندوستان نے ایک بار پھر واضح کیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک اسلام آباد سرحد پار دہشت گردی کی حمایت مکمل، قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی انداز میں ختم نہیں کرتا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق ہندوستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کی مسلسل سرپرستی کے جواب میں سندھ طاس معاہدہ معطل ہے۔ پاکستان کو قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی انداز میں دہشت گردی کی حمایت ترک کرنا ہوگی۔‘‘
اس سے قبل 5 جون کو بھی رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد 1960 کا سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے دریائے چناب اور بیاس پر ہندوستان کے پن بجلی منصوبوں پر اعتراضات کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ وزارتِ خارجہ نے 15 مئی 2026 کو ثالثی عدالت (کورٹ آف آربیٹریشن) کے اس فیصلے کو بھی مسترد کر دیا تھا، جسے اس نے "غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی عدالت" قرار دیا۔
ہندوستان نے کہا کہ وہ اس عدالت کو کبھی تسلیم نہیں کرتا اور اس کی تمام کارروائیوں اور فیصلوں کو کالعدم اور بے اثر سمجھتا ہے۔ واضح رہے کہ 3 مئی کو رام بن ضلع میں دریائے چناب پر واقع بگلیہار ڈیم کے تمام دروازے بند رکھے گئے تھے۔ پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل ہونے کے بعد یہ صورتِ حال ایک سال سے زیادہ عرصے تک برقرار رہی، جس سے علاقے میں آبی انتظام اور پن بجلی کی سرگرمیوں پر معاہدے کی معطلی کے اثرات نمایاں ہوئے۔
رام بن ضلع میں دریائے چناب پر واقع بگلیہار پن بجلی منصوبہ بجلی کی پیداوار اور پانی کے نظم و نسق میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 1960 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دریائے سندھ کے آبی نظام کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں، یعنی راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر ہندوستان کا مکمل حق ہے، جبکہ مغربی دریاؤں، یعنی سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو ملتا ہے۔
تاہم معاہدے کے مطابق ہندوستان کو مغربی دریاؤں پر گھریلو استعمال، زرعی مقاصد اور بہاؤ کے مطابق چلنے والے پن بجلی منصوبے قائم کرنے کے محدود حقوق بھی حاصل ہیں۔ ہندوستان نے اپنے حصے کے مشرقی دریاؤں کے پانی سے مکمل استفادہ کرنے کے لیے ستلج پر بھاکڑا ڈیم، بیاس پر پونگ اور پنڈوہ ڈیم، اور راوی پر تھین (رنجیت ساگر) ڈیم سمیت کئی بڑے آبی منصوبے تعمیر کیے ہیں۔