نئی دہلی
دہلی پولیس نے فرضی آئی پی او سرمایہ کاری، ’’ڈیجیٹل اریسٹ‘‘ اور غیر ملکی کرنسی کے کاروبار کے نام پر سائبر دھوکہ دہی سے حاصل تقریباً 1.22 کروڑ روپے کی رقم کے لین دین کے لیے اپنے بینک کھاتے فراہم کرنے کے الزام میں گجرات، راجستھان اور مدھیہ پردیش سے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایک افسر نے ہفتہ کے روز یہ معلومات دی۔
پولیس کے مطابق سائبر سیل اور کرائم برانچ نے سائبر دھوکہ دہی کے تین معاملات کا پردہ فاش کیا ہے، جن میں متاثرین کو سوشل میڈیا گروپس، جعلی ویب سائٹس اور فرضی شناخت کے ذریعے جعلی مالی اسکیموں کا لالچ دے کر ٹھگا گیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ 30 مئی 2025 کو درج پہلی ایف آئی آر کے مطابق مشرقی دہلی کے لکشمی نگر کے ایک رہائشی سے جعلی شیئر بازار اور آئی پی او اسکیم کے نام پر تقریباً 46.66 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کی گئی۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ دھوکہ دہی کے بعد 6.71 لاکھ روپے کی رقم سورت میں واقع ایک کمپنی کے بینک کھاتے میں جمع کرائی گئی تھی۔ اس کھاتے کے مجاز دستخط کنندہ کی شناخت راجیش رتن بھائی ہاڈیا کے طور پر ہوئی، جسے گجرات سے گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ہاڈیا نے مبینہ طور پر کمیشن کی بنیاد پر سائبر جرائم سے حاصل رقم کے لین دین کے لیے بینک کھاتہ فراہم کیا تھا۔ یہ کھاتہ نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (این سی آر پی) پر درج تین شکایات سے جڑا پایا گیا، جن میں موجودہ معاملہ بھی شامل ہے۔
پولیس نے بتایا کہ 14 اپریل کو درج دوسری ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ کو مبینہ طور پر سائبر ٹھگوں نے ’’ڈیجیٹل اریسٹ‘‘ کیا، جنہوں نے خود کو ممبئی کرائم برانچ، سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی) کے افسران ظاہر کیا تھا۔
ایک پولیس افسر نے کہا کہ گرفتاری کا خوف دکھا کر متاثرہ شخص سے کئی بینک کھاتوں میں 36.19 لاکھ روپے منتقل کروائے گئے۔انہوں نے بتایا کہ تحقیقات میں راجستھان کے کوٹا میں واقع ایک فرم سے منسلک کھاتوں میں 5.90 لاکھ روپے جمع کرائے جانے کی معلومات سامنے آئیں۔
افسر کے مطابق اس معاملے میں پولیس نے مساویر خان کو گرفتار کیا، جو مبینہ طور پر کمیشن کی بنیاد پر دھوکہ دہی سے حاصل رقم کے لین دین کے لیے ایک مالیاتی مشاورتی فرم کے ذریعے کئی بینک کھاتے چلاتا تھا۔