بنگال ایس آئی آر میں 96 فیصد حذف شدہ ووٹروں کے نام غلط طریقے سے ہٹائے گئے : کپل سبل

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 09-05-2026
بنگال ایس آئی آر میں 96 فیصد حذف شدہ ووٹروں کے نام غلط طریقے سے ہٹائے گئے : کپل سبل
بنگال ایس آئی آر میں 96 فیصد حذف شدہ ووٹروں کے نام غلط طریقے سے ہٹائے گئے : کپل سبل

 



نئی دہلی
کپل سبل نے ہفتہ کے روز مغربی بنگال میں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے یہ تبصرہ انتخابی ٹریبونل کی جانب سے نمٹائی گئی اپیلوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کیا۔سبل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ٹی ایس سیواگنانم کا ذکر کیا، جو مغربی بنگال میں خصوصی نظرثانی مہم کے دوران انتخابی فہرست سے خارج کیے گئے افراد کی اپیلیں سننے والے 19 اپیلیٹ ٹریبونلز میں سے ایک کے سربراہ تھے۔ سبل نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر اپیلوں کا فیصلہ اپیل کنندگان کے حق میں ہوا۔
انہوں نے پوسٹ میں کہا کہ جسٹس ٹی ایس شیوگنانم، مغربی بنگال انتخابات میں اپیلیں سننے والے 19 ٹریبونلز میں سے ایک۔ 1777 اپیلوں کا فیصلہ کیا، جن میں 1717 کو منظوری دی گئی۔راجیہ سبھا رکن نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ 96 فیصد سے زیادہ نام ’’غلط طریقے سے‘‘ ووٹر فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ 96 فیصد سے زیادہ نام غلط طور پر حذف کیے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر زندہ باد۔ اسی طرح بی جے پی جیتی!۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جسٹس ٹی ایس سیواگنانم نے جمعرات کو اپیلیٹ ٹریبونل سے استعفیٰ دے دیا تھا۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے اپیلیٹ ٹریبونلز کو ہدایت دی تھی کہ وہ مغربی بنگال میں خصوصی نظرثانی مہم کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے افراد کے مقدمات کی فوری سماعت کریں، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں اپیل کنندگان اسمبلی انتخابات سے قبل فوری سماعت کی ضرورت ثابت کر سکیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے خارج کیے گئے افراد کو کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رجوع کرنے کی بھی اجازت دی۔عدالت نے کہا کہ ہم درخواست گزاروں اور دیگر فریقین کو یہ آزادی دیتے ہیں کہ وہ انتظامی سطح پر کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رجوع کریں۔ اسی طرح اگر معاملات میں عدالتی مداخلت درکار ہو تو وہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رجوع کر سکتے ہیں۔ جہاں تک ان ناموں کا تعلق ہے جو خصوصی نظرثانی مہم میں خارج کیے گئے اور جنہوں نے اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کی ہے، ٹریبونل ان اپیلوں کی فوری سماعت کر سکتا ہے، خاص طور پر ان اپیل کنندگان کی جو فوری ضرورت ثابت کر سکیں۔