مہوا موئترا نے ٹی ایم سی کے باغی ایم ایل ایز پر تنقید کی

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 04-06-2026
مہوا موئترا نے ٹی ایم سی کے باغی ایم ایل ایز پر تنقید کی
مہوا موئترا نے ٹی ایم سی کے باغی ایم ایل ایز پر تنقید کی

 



کولکتہ
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندر بڑے سیاسی بغاوتی بحران کے درمیان رکنِ پارلیمان مہوا موئترا نے جمعرات کو پارٹی کے منحرف ارکانِ اسمبلی کے گروپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ اتحاد کر کے ووٹروں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔
ان کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب ٹی ایم سی کے 80 نومنتخب ارکانِ اسمبلی میں سے 58 نے بدھ کے روز اسمبلی اسپیکر رتن دھناتھ بوس کے دفتر کا رخ کیا۔ حال ہی میں پارٹی سے نکالے گئے ارکانِ اسمبلی رتبرتا بنرجی اور سندیپن ساہا کی قیادت میں اس باغی گروپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے انحراف مخالف قانون سے بچنے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے اور ٹی ایم سی لیجسلیچر پارٹی پر باضابطہ دعویٰ کرتے ہوئے رتبرتا بنرجی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا ہے۔
موئترا نے الیکشن کمیشن کو بھی نشانہ بنایا اور اسے "بی جے پی کا آلہ کار" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکزی فورسز کا رویہ اور ووٹر لسٹوں سے ناموں کا اخراج انتخابی عمل کے دوران ہوا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ منحرف ارکانِ اسمبلی نے اپنی جیت مکمل طور پر ممتا بنرجی کی قیادت اور نام پر حاصل کی تھی، اور یہ ووٹ واضح طور پر بی جے پی مخالف تھے۔ ان کے مطابق ٹی ایم سی نے پارٹی کے نشان اور ممتا بنرجی کے نام پر 41 فیصد ووٹ حاصل کیے۔باغیوں کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے موئترا نے کہا کہ وہ خود کو آزاد قرار نہیں دے سکتے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر وہ واقعی آزاد ہیں تو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں اور دوبارہ "بی جے مول" نشان پر الیکشن لڑیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کا آلہ کار بن گیا۔ ہم سب نے دیکھا کہ مرکزی فورسز نے کیسا رویہ اختیار کیا اور ووٹر لسٹوں سے نام کیسے نکالے گئے۔ عوامی مینڈیٹ کے مطابق ٹی ایم سی نے ممتا بنرجی کے نام پر 41 فیصد ووٹ حاصل کیے، اس لیے تمام ایم ایل ایز ممتا بنرجی کی قیادت میں جیتے ہیں۔ وہ اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ آزاد ہیں۔ انہیں استعفیٰ دے کر دوبارہ الیکشن لڑنا چاہیے۔ انہوں نے بی جے پی مخالف ووٹوں پر جیت حاصل کی، لیکن اب وہ بی جے پی کے ساتھ جا رہے ہیں۔
انہوں نے پارٹی چھوڑنے والوں کے لیے دروازے کھلے ہونے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران پارٹی کی "صفائی" کا موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی نے صفر سے آغاز کیا۔ اگر آپ بی جے پی کے خلاف لڑ رہے ہیں تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ جو جانا چاہیں جا سکتے ہیں، دروازہ کھلا ہے۔ پارٹی کی صفائی ہونی چاہیے۔
مغربی بنگال کی سیاسی صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہے کیونکہ باغی گروپ کی علیحدگی سے اسمبلی میں عددی توازن بدل گیا ہے۔ جہاں باغی گروپ دو تہائی اکثریت کے دعوے کے ساتھ انحراف مخالف قانون سے تحفظ کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں ٹی ایم سی قیادت اسے عوامی مینڈیٹ سے غداری قرار دے رہی ہے۔