ملک میں سیاسی قیادت تیار کرنے کا کوئی نظام نہیں: ارلیکر

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 23-05-2026
ملک میں سیاسی قیادت تیار کرنے کا کوئی نظام نہیں: ارلیکر
ملک میں سیاسی قیادت تیار کرنے کا کوئی نظام نہیں: ارلیکر

 



نئی دہلی
تمل ناڈو کے گورنر راجندر آرلیکر نے ہفتہ کے روز اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں سیاسی رہنماؤں کے لیے کوئی کم از کم تعلیمی اہلیت مقرر نہیں ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ عوامی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے خود کو علم، شعور اور آگاہی سے آراستہ کریں۔
راجندر آرلیکر نے یہاں "قومی یوتھ پارلیمنٹ" پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ نظام پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ملک میں سیاسی قیادت کو تیار کرنے کے لیے کوئی منظم نظام موجود نہیں ہے۔
آرلیکر نے گوا کے گورنر پی اشوک گجپتی راجو کے ساتھ اس پروگرام کا افتتاح کیا۔انہوں نے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی کے بیان کردہ ایک واقعے اور معروف ہندی شاعر کاکا ہاتھرسی کی ایک طنزیہ نظم کا حوالہ دیتے ہوئے سیاست اور دیگر پیشوں کے درمیان فرق کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ گاڑی چلانے کے لیے بھی بنیادی اہلیت، تربیت اور لائسنس درکار ہوتا ہے، جبکہ قانون، طب، تدریس اور حتیٰ کہ ابتدائی درجے کی سرکاری ملازمتوں کے لیے بھی کم از کم تعلیمی قابلیت ضروری سمجھی جاتی ہے۔
کیرالہ کا اضافی چارج بھی سنبھالنے والے آرلیکر نے کہا کہ لیکن سیاست میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے۔ ایک شخص بنیادی تعلیمی اہلیت کے بغیر بھی وزیر بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال سنجیدہ خود احتسابی کی متقاضی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکمرانی اور پالیسی سازی کے لیے گہری سمجھ بوجھ اور ذمہ داری کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی انتظامی سروس (آئی اے ایس) اور ہندوستانی پولیس سروس (آئی پی ایس) کے افسران کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے، لیکن رہنما بننے کے لیے کون سی تربیت ضروری ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے پاس سیاست میں قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔
گورنر نے کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ باشعور اور ذمہ دار قیادت فراہم کرنے کے لیے خود کو تیار کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سیاست میں کم از کم ایک لاکھ ایسے پُرعزم نوجوانوں کو لانے کی اپیل کی ہے جو ہندوستان کی تاریخ، جغرافیہ اور آئینی ڈھانچے کے بارے میں اچھی سمجھ رکھتے ہوں۔
آرلیکر نے کہا کہ ملک کی آئندہ قیادت ایسی نسل سے ابھرنی چاہیے جو ہندوستان کی ثقافتی یکجہتی، تاریخی سفر اور ترقیاتی امنگوں کو گہرائی سے سمجھتی ہو۔