محفوظ عالم ۔ پٹنہ
ہندوستان کے مولوی برادری نے ایک نیا اسلام بنایا ہے جس میں وہ اعلیٰ ذات کے ہیں اور باقی لوگ ان کے نیچے ہیں۔اونچ نیچ کر کے ان لوگوں نے سماج کو پوری طرح سے تقسیم کر دیا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے گھر میں جو گندگی ہے اس کو صفائی کرنے کے بجائے، ہم اس پر پردہ ڈال رہے ہیں ۔۔۔۔ کسی ملک کے وزیر اعظم نے پہلی بار پسماندہ مسلم کا نام لیا ہے یہ کافی مثبت اور تاریخی کام ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے ملک کے مسلمانوں کے ایک ایسے سماج کی بات کی ہے جس کا نام لینا بھی لوگ گوارہ نہیں کرتے ہیں ۔۔۔ مسلمانوں کو اور خاص کر ہمارے علما کو آگے آکر اس مسئلہ کو ختم کرنا چاہئے ۔۔۔ سب سے پہلے ہمارے علما اور بڑے مسلم گھرانوں کے لوگوں کو اپنے نام سے ٹائٹل ہٹانا چاہئے۔۔۔ اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں ہے لیکن مسلمانوں میں ذات پات اپنے شباب پر ہے۔
آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے پسماندہ مسلم رہنماؤں اور دانشوروں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام میں مساوات ہے اور مساوات ہی وہ بڑی وجہ تھی جس کے سبب مذہب کی تبدیلی ہوئی تھی لیکن بھارت کے مسلمانوں میں مساوات نہیں ہے، حالت یہ ہے کہ پسماندہ مسلمانوں کو مسلم سماج میں ہی بھید بھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پیغمبر حضرت محمد صلی علیہ و سلم نے اپنے آخری خطبہ میں واضح کر دیا تھا کہ کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں ہے سوائے تقویٰ کے لیکن ہندوستانی مسلمانوں میں ایسا نہیں ہے۔ ہندوستان کے مسلمان ذات پات اور حسب و نسب کی برتری میں بری طرح سے ملوث ہیں۔ وہ اپنے ذات پر فخر کرتے ہیں اور پسماندہ برادریوں کو ہیچ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ کہنا ہے پسماندہ مسلم سماج کا۔
پہلی بار پسماندہ کی بات کسی وزیر اعظم نے کی
وزیر اعظم نریندر مودی ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی ان کمزور ذاتیوں اور برادریوں کا ذکر کر کے ان کے مسئلہ کو دنیا کے منظر نامہ پر لانے کی کوشش کی ہے۔ پسماندہ سماج کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم نریندر مودی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے پسماندہ سماج کے مسئلہ کو لیکر اپنی فکر مندی کا بار بار اظہار کیا ہے۔ ہم ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے مسئلہ کو بھی حل کرے جو آئین میں ترمیم کے ساتھ ممکن ہو سکتا ہے۔
چھوٹی ذاتیوں کے ساتھ مسلم سماج کا برتاؤ
آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے پسماندہ مسلم سماج کے نیشنل کنوینر پروفیسر فیروز منصوری نے کہا کہ آج کے دور جدید میں بھی مسلم سماج کے درمیان مسلمانوں کی چھوٹی ذاتیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک عام بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے مسلم سماج کی ذاتیوں کے نظام پر کئی بار کھل کر بات کی ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم نے دنیا کے منظر نامہ پر مسلم ذات پات کے نظام کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔
فیروز منصوری کا کہنا ہے کہ اسلام میں ذات پات کا نظام نہیں ہے، وہاں بلاشبہ مساوات کی تعلیم نظر آتی ہے لیکن بھارتیہ مسلمانوں کے درمیان ذات پات کا نظام نہ صرف اپنی مضبوط حالات میں موجود ہے بلکہ اس میں روز بروز ترقی ہو رہی ہے۔ فیروز منصوری کے مطابق مسلم سماج ذات پات کے سسٹم کے سبب خود کا اور اسلام کا بھی نقصان کر رہے ہیں لیکن اشراف کا جو طبقہ ہے وہ کبھی بھی دلت اور پسماندہ مسلم ذاتیوں کو گلے نہیں لگاتا ہے بلکہ اسے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ مساوات کے سبب ہی لوگوں نے اپنا مذہب تبدیل کیا تھا اور اسلام مذہب کو قبول کیا، لیکن اسلام مذہب قبول کرنے کے بعد بھی ان میں ذات کا سسٹم باقی رہا اور اعلیٰ ذات کے لوگوں نے انہیں یہاں بھی برابری کا درجہ نہیں دیا بلکہ پسماندہ سماج کو حقیر ہی سمجھا۔ لوگوں کو ایک بڑی غلط فہمی ہے کہ مسلمان باہر کے ملکوں سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں لیکن یہ سراسر غلط ہے، مسلمان بنیادی طور پر اسی ملک کے ہیں اور اسی مٹی میں پیدا ہوئے ہیں۔
.webp)
پروفیسر فیروز منصوری، نیشنل کنوینر، پسماندہ مسلم سماج
فیروز منصوری کے مطابق جن لوگوں نے اپنا مذہب تبدیل کیا ان کی ذاتیاں نہیں بدلی وہ جس ذاتی میں تھے اور جس ذات پات سے تنگ آکر مذہب تبدیل کیا تھا وہ تو باقی رہا اور آج بھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھلے ہی لوگ اس بات کو غلط بتائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ہندو سماج میں ذات پات کا نظام ہے بلکل اسی طرح مسلم سماج میں بھی ذات پات ہے۔ بھارت کا مسلم سماج مولانا سے گائڈ ہوتا ہے، انہیں بتا دیا جاتا ہے کہ اسلام میں ذاتیوں کا کوئی تصور نہیں ہے اور وہ مان بھی لیتے ہیں لیکن وہی مولانا دلت اور پسماندہ سماج کے بیچ کسی طرح کا اصلاح کرنے اور بھید بھاؤ کو ختم کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کھڑا کیا کہ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ پچھڑی ذاتیوں کے گھر میں اعلیٰ ذات کا مسلمان اپنے بچوں کی شادی نہیں کرتا ہے۔ ہمارے لئے سب سے اہم بھارت کا آئین ہے جو ہمیں برابری کا حق دیتا ہے۔ فیروز منصوری کے مطابق وزیر اعظم نے پسماندہ مسلم غریب سماج کا ذکر کیا ہے تو ہم ان سے یہ امید بھی کرتے ہیں کہ وہ پسماندہ مسلمانوں کے فلاح و ترقی کے سلسلے میں بھی سنجیدہ پہل کریں گے۔
ہندوستان میں چل رہا ہے ایک نیا اسلام
فیروز منصوری کے مطابق سچر کمیٹی اور رنگ ناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ میں خود مسلم ذاتیوں کا واضح ذکر کیا گیا ہے ایسے میں اب کوئی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ مسلم سماج میں ذات پات کا نظام نہیں ہے۔ یاد رہے کہ حضرت محمد صلی علیہ و سلم کے آخری خطبہ میں سب کچھ واضح کر دیا گیا تھا لیکن ہندوستان کے مولوی برادری نے ایک نیا اسلام بنایا ہے جس میں وہ اعلیٰ ذات کے ہیں اور باقی لوگ ان کے نیچے ہیں، اونچ نیچ کر کے ان لوگوں نے سماج کو پوری طرح سے تقسیم کر دیا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے گھر میں جو گندگی ہے اس کو صفائی کرنے کے بجائے، ہم اس پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ خوب یاد رکھئے گندگی پر ہم پردہ ڈالیں گے تو وہ ایک مہاماری کا شکل اختیار کرے گا۔ مسلمانوں کے بیچ میں ذاتیوں کا سسٹم ایک مہاماری کا شکل اختیار کر لیا ہے۔ آپ اس کو زیادہ دنوں تک چھپا نہیں سکتے ہیں۔ ہمارے یہاں شادیوں میں اپنی بہن بیٹیوں کو دو چیزیں ضرور دی جاتی ہے، ایک قرآن مجید اور دوسرا بہشتی زیور۔ افسوس ہے کہ قرآن میں کہیں بھی ذاتی سسٹم کی بات نہیں ہے، کہیں اونچ نیچ کی بات نہیں ہے لیکن بہشتی زیور میں صاف لکھا ہوا ہے کہ کس سے شادی کرنی چاہئے اور کس سے شادی نہیں کرنی چاہئے۔ کون اعلیٰ ذاتی ہے اور کون اچھوت ذاتی ہے۔ یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے جس کو حسب اور نسب کہا جاتا ہے اور حضرت محمد صلی علیہ و سلم کے اس قول کو جھٹلایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی پر کسی کی فوقیت نہیں ہے سوائے تقوی کہ۔ فیروز منصوری کا کہنا ہے کہ وہ ایک نیا اسلام چلا رہے ہیں۔ ملا ڈائنسٹی انسانیت اور تہذیب پر حملہ کرتا ہے۔ اسلام میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے لیکن مسلمان میں ہے جو کی نہایت ہی شرم کی بات ہے۔
بھا جپا کا خوف دکھا کر ووٹ لیتی ہے سیکولر پارٹیاں
آل انڈیا بیک وارڈ مسلم مورچہ کے قومی صدر کمال اشرف نے آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کے وزیر اعظم نے پہلی بار پسماندہ مسلم کا نام لیا ہے یہ کافی مثبت اور تاریخی کام ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے ملک کے مسلمانوں کے ایک ایسے سماج کی بات کی ہے جس کا نام لینا بھی لوگ گورا نہیں کرتے ہیں۔ سیکولر نام کی جو پارٹیاں ہیں ان کے لیڈروں نے تو آج تک مسلمانوں کو بی جے پی سے ڈرا کر ہی ووٹ لیا ہے کبھی پسماندہ مسلمانوں کے مسئلہ پر بات تک نہیں کی ہے۔ لالو پرساد یادو نے حال میں لوک سبھا انتخابات کے بیچو بیچ یہ بیان دیا کہ مسلمانوں کو ریزرویشن ملنا چاہئے۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو تو ریزرویشن مل ہی رہا ہے۔ جن کو نہیں مل رہا ہے ان کے بارے میں تو لالو پرساد نے کبھی کوئی بات ہی نہیں کی ہے۔ کمال اشرف کے مطابق دلت مسلمان کا نام بھی کبھی لالو یادو نے اپنی زبان سے نہیں لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لالو پرساد یادو کا ایک ہی کام رہا ہے کہ مسلمانوں کو بھا جپا سے ڈراؤ اور مسلمانوں کا ووٹ لو۔

کمال اشرف، قومی صدر،آل انڈیا بیک وارڈ مسلم مورچہ
کمال اشرف نے کہا کہ وزیر اعظم نے پسماندہ سماج کے معاملہ پر اپنی فکر مندی کا اظہار کیا ہے اس تعلق سے ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ خود بھی اس سماج کے مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ خود کہ رہے ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں مل سکتی ہے تو مذہب کی بنیاد پر پہلے سے ہی ریزرویشن ملا ہوا ہے وہ بھی غلط ہے۔آئین کی دفع 341 میں کیا ہے؟ پہلے آپ نے ہندوؤں کو ریزرویشن دیا پھر سکھ اور بودھ مذہب کے پیروکاروں کو اس میں شامل کر دیا تو پھر سوال ہے کہ دلت مسلمان کو کیوں اس سے الگ رکھا گیا ہے۔
حصہ داری پر بڑا سوال
کمال اشرف کے مطابق پورے ہندوستان میں کسی بھی شعبہ میں پسماندہ مسلم سماج کو حصہ داری نہیں دی گئی ہے۔ جب ہمارے سماج سے حصہ داری کا سوال ہوتا ہے تو ریزرویشن کا نام لیکر اس پر سیاست شروع ہو جاتی ہے۔ لالو پرساد یادو نے تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اپنی پارٹی سے محض دو مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے۔ یعنی 18 فیصدی مسلم آبادی کی سیاست وہ کر رہے ہیں اور ٹکٹ صرف دو لوگوں کو وہ دے رہے ہیں جبکہ انہوں نے اپنے گھر سے ہی دو بیٹیوں کو لوک سبھا کا ٹکٹ دیا ہے۔ مسلمانوں کا ووٹ لینے کے لیے لالو پرساد مسلم سماج کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں تاکہ اس کا فائدہ انہیں ملتا رہے۔ ان کے مطابق لالو پرساد یادو نے کہا کہ مسلمانوں کو ریزرویشن ملنا چاہئے، مسلمانوں کو تو ریزرویشن مل ہی رہا ہے۔ او بی سی مسلمان کو ریزرویشن مل رہا ہے۔ معاشی اعتبار سے کمزور اعلیٰ ذات کے لوگوں کو بھی نریندر مودی نے ریزرویشن دے دیا ہے۔ ایس ٹی کو ملتا ہی ہے۔ ہم لوگ یہ مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ شیڈول کاسٹ میں دلت مسلمان کو شامل کرنا چاہئے لیکن کبھی لالو یادو نے اس معاملہ کو اپنی زبان سے بولا تک نہیں ہے۔ دراصل سیکولر پارٹیوں کے لیڈر، جس کو ریزرویشن نہیں مل رہا ہے اس کی بات نہیں کرتے ہیں۔ جس کو مل رہا ہے اسی کو ریزرویشن دینے کی بات کہ کر وہ تنازعہ کھڑا کرتے ہیں اور مسلمانوں کو خوش کرنے کی سیاسی چال چلتے ہیں۔ تاکہ ہندو مسلم کارڈ چلتا رہے اور آسانی سے سیکولر کہی جانے والی پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ لیتی رہے۔
ذات پات کی غلط فہمی اب دور ہوگئ
کمال اشرف کا کہنا ہے کہ پہلے لوگ کہتے تھے کہ اسلام میں اور مسلمان میں ذات پات نہیں ہے لیکن اب واضح ہو گیا ہے کہ اسلام میں بھلے ہی ذات پات نہیں ہو لیکن مسلم سماج میں بڑے پیمانے پر ذات پات کا سسٹم رائج ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی بھی ملی، سماجی، فلاحی اور مذہبی تنظیم نہیں ہے جہاں پسماندہ سماج کو کوئی حصہ داری دی گئی ہو، ہر جگہ اعلیٰ ذات کے لوگوں کا ہی دب دبہ ہے۔ کہیں بھی بیک وارڈ اور دلت مسلم کو کوئی حصہ داری نہیں ملتی ہے۔
حصہ داری نہیں تو ووٹ نہیں
کمال اشرف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے ایک ایک کر کے پسماندہ مسلمانوں کی تمام ذاتیوں کا نام گنا دیا ہے۔ اب اگر ووٹ چاہئے تو حصہ داری دینی ہوگی۔ اگر ہم بی جے پی کو ووٹ نہیں کرتے ہیں تو سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں کو بھی ووٹ نہیں کریں گے۔ بی جے پی ہندو توا کی سیاست کرتی ہے لیکن جو لوگ ہمارے ووٹوں سے اقتدار کی کرسی پر پہنچتے ہیں وہ بھی ہماری پسماندگی کا مذاق اڑاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک لفظ بھی ہمارے حق کے لیے بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ یہ کہنے کو تیار نہیں ہیں کہ مسلم پسماندہ سماج کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ نہ وہ ہمارے مسئلہ پر بولتے ہیں اور نہ ہی حصہ داری دیتے ہیں ایسی صورت حال میں ہم لوگ اس بار لوک سبھا انتخابات کا بائی کاٹ کر رہے ہیں۔ کمال اشرف نے کہا کہ ٹھیک ہے بی جے پی کو مسلمان ووٹ نہیں کرتا ہے تو جو لوگ ہمارے ووٹ سے انتخابات جیتتے ہیں وہ اس بار ہمارے بغیر انتخاب جیت کر دکھائے۔
پسماندہ مسلمانوں کا درد
دلت مسلم بکھو سماج کے قومی صدر ریاض الدین نے مسلم سماج کی اس خطرناک کیفیت کا اور بھی افسوس ناک واقع سنایا۔ ان کے مطابق وہ مسلمانوں میں بکھو سماج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اور بھی مختلف پچھڑی ذاتیوں کے حق کو لیکر گزشتہ دو دہائیوں سے تحریک چلا رہے ہیں۔ اسلام میں مساوات کی تعلیم تو دی جاتی ہے لیکن مسلمانوں میں کسی طرح کی کوئی مساوات نہیں ہے۔ بکھو برادری کو مسلمان کافی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں ذات برادری کا کوئی تصور نہیں ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ میں نے اپنی خود کی بیٹیوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی ہے، وہ گریجویٹ ہیں لیکن ان کی شادی کا معاملہ سامنے آیا ہے تو بکھو سماج میں پڑھا لکھا لڑکا نہیں مل رہا ہے اور مسلمانوں کی دوسری ذاتیاں ہمیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔
ریاض الدین کا کہنا ہے کہ مساوات صرف دکھاوے کا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا اعلیٰ طبقہ یا اعلیٰ ذات کے لوگ جن کے ہاتھ میں مسلمانوں کی نمائندگی ہے وہ تو خود ہی مسلمانوں کی پچھڑی ذاتیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی کئی ایسی پچھڑی ذاتیاں ہیں جنہیں اسلام کے بارے میں کچھ بھی جانکاری نہیں ہے۔ وہ جمعہ کے دن کبھی کبھی مسجد جاتے ہیں لیکن اعلیٰ ذات کا مسلمان ان سے دور ہی رہنا پسند کرتا ہے۔ ریاض الدین کے مطابق یہ ایک زمینی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ پچھڑی ذاتیوں میں تعلیم کی بیحد کمی ہے لیکن ان کے اس اہم مسئلہ کو بھی حل کرنے کی کبھی کوشش سماج کی طرف سے نہیں کی جاتی ہے۔
ریاض الدین، قومی صدر، دلت مسلم بکھو سماج
مسلمانوں کی پچھڑی ذاتیاں کس کے بھروسہ پر
ریاض الدین کے مطابق مسلمانوں کی رہنمائی کا دعویٰ کرنے والے لوگوں نے آج تک مسلم سماج کی پچھڑی ذاتیوں میں کسی طرح کا کوئی اصلاحی اور بیداری مہم نہیں چلایا ہے۔ اعلیٰ ذات کے لوگ اس سماج کو اپنے دسترخوان پر بٹھانا گناہ سمجھتے ہیں۔ اب حالت یہ ہوگئ ہے کہ مسلمانوں کی چھوٹی ذاتیوں کے درمیان اصلاحی مہم نہیں چلائی گئی تو بہت ممکن ہے کہ ان کا پھر سے مذہب تبدیل ہو جائے،وہ مذہب تبدیلی کے بلکل کنارے کھڑے ہیں۔ ریاض الدین نے بتایا کہ مسلمانوں کی رہبری کرنے والے لوگ مسجد کے خطبہ تک ہی محدود رہ گئے ہیں۔ مسلمانوں کے اعلیٰ ذات کے لوگ تو خود ہی بھید بھاؤ کر رہے ہیں، ایسے میں ان کی مشکلوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔
ریاض الدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سونچ الگ ہے، پسماندہ مسلمانوں کی بات تو وہ کر رہے ہیں لیکن دلت مسلم، بلکل ہندو دلت کی طرح ہے لیکن انہیں ریزرویشن دینے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بھی ووٹ کی سیاست کر رہے ہیں۔ جس طرح سے کانگریس پارٹی کا پسماندہ مسلمانوں سے سلوک رہا ہے اسی طرح بی جے پی کا بھی سلوک ہے۔ ہاں انہوں نے پسماندہ مسلمان پر اپنی فکر کو ظاہر کیا ہے یہ ایک اچھی بات ہے۔ مسلم تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پسماندہ سماج کے لیے کچھ تو کرے۔ کم سے کم دین اور اسلام کے نام پر ان کی بستیوں میں کوئی تو مہم چلائی جائے جس کے سبب لوگ اسلام سے قریب ہوں اور ان میں تعلیم کی روشنی آسکے۔مسلم تنظیموں کے ذمہ داران جب تک کمزور اور پچھڑی ذاتیوں سے نفرت کریں گے اور انہیں نیچی نگاہ سے دیکھے گے تب تک ان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
مسلمانوں کو اپنا ذہن بڑا کرنا ہوگا
رنگریز جاگرن منچ کے قومی صدر مستقیم اختر رنگریز کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اپنا ذہن بڑا کرنا چاہئے اور پسماندہ ذاتیوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔سب جگہ امتیاز کا سلوک نہیں ہے لیکن یہ سچ ہے کہ پچھڑی ذاتیوں کے ساتھ مسلم سماج میں ہی بھید بھاؤ ہے۔ پسماندہ مسلم سماج کو ریزرویشن مل رہا ہے۔ اگر آئین میں ترمیم کر دلت مسلمانوں کو بھی شیڈول کاسٹ کا درجہ ملتا تو بہت اچھا تھا۔ جو حاشیہ پر لوگ ہیں وہ بھی قومی دھارے سے جڑتے۔ پسماندہ سماج بھی مضبوط ہوگا تو ملک کی اور ترقی ہوگی۔
مستقیم احمد کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے جو پسماندہ سماج کے سلسلے میں کہا ہے اس سے ہم بہت زیادہ خوش نہیں ہیں۔ اس لیے کی نیت دیکھا جاتا ہے اور ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ وزیر اعظم کا یہ ایک سیاسی جملہ ہے جو انتخابات کے درمیان مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ ایک طرف ان کے بھاشن میں نفرت جھلکتی ہے اور دوسری طرف پسماندہ مسلمانوں کے لیے فکر مندی کا اظہار ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کرنے کے غرض سے پسماندہ کا کارڈ کھیلا گیا ہے۔ اس لیے ان کی باتوں سے بہت خوش نہیں ہونا ہے اور نہ ہی کچھ بولنا ہے۔ یہ سوچنا ہے کہ وہ کچھ کرنے والے نہیں ہیں۔
مستقیم احمد کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی پچھڑی ذاتیاں مسلمانوں کے درمیان بھی پوری طرح سے نظر انداز ہے، مسلمانوں کو اور خاص کر ہمارے علما کو آگے آکر اس مسئلہ کو ختم کرنا چاہئے۔ سب سے پہلے ہمارے علما اور بڑے مسلم گھرانوں کے لوگوں کو اپنے نام سے ٹائٹل ہٹانا چاہئے، نام میں ٹائٹل لگا کر وہ اپنے آپ کو افضل ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھتے ہیں تو یہاں سے ایک کھائی شروع ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے نام سے ٹائٹل ہٹایا جائے اور سماج کے سبھی ذاتیوں تک تعلیم کو پہنچانے کی کوشش کی جائے تاکہ سماج پڑھ لکھ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کی سماع روشن ہوگی تو پسماندہ اور مسلمانوں کی چھوٹی ذاتیوں کے ساتھ انصاف ہوگا اور ذاتیوں کا امتیاز بھی خود بخود ختم ہو جائے گا