امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے کا پہلا مرحلہ جلد مکمل کیا جائے گا: پیوش گوئل
نئی دہلی
مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے کا پہلا مرحلہ جلد از جلد مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان تین روزہ ملاقاتوں کے لیے قومی دارالحکومت پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہندوستان-عمان سی ای پی اے کے اعلان کے موقع پر گوئل نے کہا کہ جہاں تک امریکی ٹیم کا تعلق ہے، کچھ ارکان پہنچ چکے ہیں اور کچھ آج رات پہنچ جائیں گے۔
پیوش گوئل نے ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عبوری تجارتی معاہدے کی 99 فیصد تفصیلات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔گوئل نے کہا کہ امریکی ٹیم کے بعض ارکان پہلے ہی آ چکے ہیں جبکہ دیگر آج رات پہنچ رہے ہیں۔ ہماری ملاقاتیں 2، 3 اور 4 جون کو طے ہیں۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے 3 فروری کو ہی فریم ورک معاہدے کا اعلان کر دیا تھا اور تمام اہم نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے حال ہی میں کہا تھا کہ 99 فیصد تفصیلات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ اب صرف چند معمولی امور باقی ہیں۔ معاہدے کو آخری شکل دیتے وقت جو تبدیلیاں آئی ہیں اور امریکہ میں جو قانونی تبدیلیاں ہوئی ہیں، انہیں معاہدے میں شامل کرنے کے طریقۂ کار پر بات ہو رہی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے کا پہلا مرحلہ جلد مکمل کر لیں گے۔ اس پر دستخط کے بعد ایک زیادہ جامع تجارتی معاہدے کی سمت میں مزید بات چیت شروع کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ہندوستانی مذاکرات کار مسابقتی ممالک کے درمیان ترجیحی رسائی کے مسئلے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ امریکی تجارتی ٹیم کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں امریکی سیکشن 301 تحقیقات کے تحت ٹیرف میں ریلیف کا معاملہ بھی اہم ایجنڈے میں شامل ہوگا۔امریکی وفد کی قیادت چیف مذاکرات کار برینڈن لنچ کر رہے ہیں، جبکہ ہندوستانی وفد کی سربراہی ایڈیشنل سیکریٹری درپن جین کر رہے ہیں۔ وزارتِ تجارت کے مطابق ان مذاکرات میں عبوری معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جائے گی اور مارکیٹ تک رسائی، غیر ٹیرفی اقدامات، کسٹمز و تجارتی سہولت کاری، سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی سلامتی سے متعلق تعاون پر پیش رفت کی جائے گی۔
موجودہ مذاکرات اپریل 2026 میں واشنگٹن میں درپن جین کی قیادت میں ہونے والے ہندوستانی وفد کے دورے کے بعد منعقد ہو رہے ہیں۔ یہ 7 فروری 2026 کو جاری مشترکہ بیان کی بنیاد پر ہو رہے ہیں، جس میں دونوں ممالک نے باہمی مفاد پر مبنی عبوری تجارتی معاہدے کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا تھا اور ایک جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے جمعہ کے روز آئی آئی ٹی دہلی میں منعقدہ یو ایس -انڈیا ٹرسٹ انیشیوٹو پروگرام کے دوران کہا تھا کہ یہ معاہدہ جلد حتمی شکل اختیار کر لے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ہی ہندوستان نے معاہدے کے آخری ایک فیصد حصے کو مکمل کرنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی میں ایک ٹیم بھیجی تھی۔ آئندہ ہفتے ہم ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک امریکی وفد کا یہاں استقبال کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ یہ تجارتی معاہدہ آنے والے چند ہفتوں یا مہینوں میں دستخط کے مرحلے تک پہنچ جائے گا۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اشیا اور خدمات کی دوطرفہ تجارت 20 ارب ڈالر سے بڑھ کر 220 ارب ڈالر سے زائد ہو چکی ہے۔ اسی تناظر میں دونوں فریق اس معاہدے کے پہلے مرحلے کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔