حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی امریکی دورے کی اجازت نہ ملنے پر مرکزی حکومت اور این ڈی اے کے خلاف تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاستی بی جے پی صدر این رام چندر راؤ نے منگل کو کہا کہ وزیر اعلیٰ کو پہلے یہ بتانا چاہیے کہ وہ امریکہ میں کن لوگوں سے ملاقات کرنے والے تھے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریونت ریڈی ملک کے عوام کو بتائیں کہ وہ امریکہ میں کن افراد سے ملاقات کرنا چاہتے تھے اور ان ملاقاتوں کا مقصد کیا تھا۔ رام چندر راؤ نے کہا کہ اپنے دورے کی مکمل تفصیلات مناسب طریقے سے فراہم کیے بغیر ریونت ریڈی کو مرکز پر جھوٹے الزامات نہیں لگانے چاہئیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ریونت ریڈی کو ان کے گزشتہ دو امریکی دوروں کے علاوہ لندن اور سنگاپور کے دوروں کے لیے بھی اجازت دی گئی تھی۔
اس لیے انہیں سمجھنا چاہیے کہ اس مرتبہ اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سابق یو پی اے حکومت کے دور میں بھی متعدد وزرائے اعلیٰ کو بیرون ملک دوروں کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جب انہوں نے مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔ رام چندر راؤ نے کہا کہ ایسے فیصلے وزارت خارجہ کے ضوابط کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
ریونت ریڈی کے اس الزام پر بھی انہوں نے تنقید کی کہ مرکز گجرات کو ترجیح دے رہا ہے اور تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے۔ رام چندر راؤ نے کہا کہ این ڈی اے حکومت تمام ریاستوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں قومی شاہراہوں کی بڑے پیمانے پر توسیع، ریلوے اسٹیشنوں کی جدید کاری، وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کا آغاز، ورنگل میں ریلوے کوچ فیکٹری کا قیام، بی بی نگر میں ایمس اور دیگر منصوبے ریاست میں مرکزی حکومت کی ترقیاتی کوششوں کا ثبوت ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے 25 اگست کو اپنے امریکی دورے کی اجازت نہ ملنے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور این ڈی اے حکومت کے خلاف سخت تنقید کرتے ہوئے اس فیصلے کو "آمرانہ" قرار دیا تھا اور اسے ریاست کے چار کروڑ عوام کی توہین بتایا تھا۔