میرٹھ (اتر پردیش): اتر پردیش کے میرٹھ چھاؤنی (کینٹونمنٹ) علاقے میں مشکوک ڈرون نما اشیاء کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی اداروں نے نگرانی سخت کر دی ہے اور مشترکہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق 30 مئی کی شام اطلاع ملی تھی کہ کیمرے سے لیس بعض مشتبہ ڈرونز چھاؤنی کے اوپر پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔
اطلاع ملتے ہی فوج اور مقامی پولیس کی ٹیموں نے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا اور اعلیٰ فوجی و پولیس حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ تحقیقات کے سلسلے میں سردھنا روڈ، کنکرکھیڑا، آر وی سی اور گنگا نگر سمیت ملحقہ علاقوں میں تلاشی کارروائیاں کی گئیں۔ حکام کے مطابق آس پاس نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (شہر) ونایک گوپال بھونسلے نے بتایا کہ 30 مئی کی شام فوج اور مقامی پولیس کے ذرائع سے چھاؤنی کے اوپر ڈرون نما اشیاء کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا: "اس اطلاع کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس کی نگرانی ٹیم، سوشل میڈیا سیل اور دیگر خصوصی یونٹس کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی۔"
بھونسلے کے مطابق فوجی پولیس، مقامی پولیس اور ضلعی پولیس پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن بھی انجام دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی سے متعلق معیاری طریقۂ کار (SOPs) پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ فوجی افسران اور مرکزی ایجنسیوں کے نمائندوں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔ ان کے مطابق تحقیقات فوج کی خصوصی یونٹس کے تعاون سے جاری ہیں۔
اے ایس پی سٹی نے بعض میڈیا رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دو ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی حکام نے ایسے کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی اور اب تک اس حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ حکام نے خبردار کیا کہ فوجی پابندی والے علاقوں میں بغیر اجازت ڈرون اڑانا قانوناً جرم ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نتائج کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔