نئی دہلی
ہندوستان کے چیف جسٹس سوریا کانت نے منگل کو سپریم کورٹ کے پانچ نئے ججوں کو عہدے کا حلف دلایا، جس کے بعد عدالتِ عظمیٰ میں ججوں کی تعداد بڑھ کر 37 ہو گئی ہے۔
جن ججوں نے آج حلف اٹھایا ان میں جسٹس شیل ناگو (چیف جسٹس، پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ)، جسٹس شری چندر شیکھر (چیف جسٹس، بمبئی ہائی کورٹ)، جسٹس سنجیو سچدیوا (چیف جسٹس، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ)، جسٹس ارون پلی (چیف جسٹس، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ) اور سینئر وکیل وی موہنا شامل ہیں۔
سینئر وکیل وی موہنا کی سپریم کورٹ میں تقرری کو عدالت میں خواتین کی نمائندگی مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت سپریم کورٹ میں صرف ایک خاتون جج، جسٹس بی وی ناگرتنا، خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اگست 2021 کے بعد کسی خاتون کو سپریم کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کالجیم نے 27 مئی کو سپریم کورٹ کے ججوں کے طور پر تقرری کے لیے پانچ ناموں کی سفارش مرکزی حکومت کو بھیجی تھی۔ یہ سفارشات 22 اور 27 مئی کو منعقدہ کالجیم اجلاسوں میں کی گئی تھیں۔یکم جون کو مرکزی حکومت نے ان پانچ تقرریوں کی منظوری دے دی تھی۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے ایکس پر بتایا کہ صدرِ جمہوریہ نے آئین کے آرٹیکل 124(2) کے تحت ان تقرریوں کی منظوری دی ہے۔حال ہی میں سپریم کورٹ کی منظور شدہ تعداد میں چار ججوں کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد چیف جسٹس سمیت ججوں کی کل منظور شدہ تعداد 38 ہو گئی ہے۔
اس تقرری سے قبل سپریم کورٹ 32 ججوں کے ساتھ کام کر رہی تھی، جبکہ جون کے دوران جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس پنکج متھل کی ریٹائرمنٹ کے باعث مزید دو آسامیاں خالی ہونے والی ہیں۔