سپریم کورٹ نے ٹی وی کے ایم ایل اے سیتھوپتی پر عائد پابندی ہٹائی

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 13-05-2026
سپریم کورٹ نے ٹی وی کے ایم ایل اے سیتھوپتی پر عائد پابندی ہٹائی
سپریم کورٹ نے ٹی وی کے ایم ایل اے سیتھوپتی پر عائد پابندی ہٹائی

 



نئی دہلی
سپریم کورٹ آف انڈیا نے بدھ کے روز مدراس ہائی کورٹ کے اُس حکم پر روک لگا دی، جس میں ٹی وی کے کے رکنِ اسمبلی آر سرینواس سیتھوپتی کو تمل ناڈو اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔
جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ کم از کم اتنا تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ ہائی کورٹ کہتی ہے کہ اس کا حل انتخابی عرضی ہے، لیکن پھر بھی آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت دائر درخواست کی سماعت کر رہی ہے۔
آئین کا آرٹیکل 226 ہائی کورٹس کو بعض معاملات میں رِٹ جاری کرنے کے اختیارات دیتا ہے۔رِٹ جاری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کسی فرد، افسر یا ادارے کو تحریری باضابطہ حکم جاری کرے۔ یہ حکم آئینی حقوق (بنیادی حقوق) کے نفاذ یا ان کی خلاف ورزی روکنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔
تمل ناڈو میں تاملگا ویٹری کزگم  حکومت نے بدھ کے روز ایک بڑی رکاوٹ عبور کر لی، جب اس نے اہم اپوزیشن جماعت ڈی ایم کے کے اسمبلی سے واک آؤٹ اور اے آئی اے ڈی ایم کے میں پھوٹ کے درمیان 22 کے مقابلے 144 ووٹوں سے اعتماد کا ووٹ جیت کر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے ایک دھڑے نے سی جوزف وجے کی قیادت والی حکومت کی حمایت کی۔
ہائی کورٹ کے 12 مئی کے عبوری حکم کو چیلنج کرنے والی سیتھوپتی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے بنچ نے اس معاملے میں ہائی کورٹ میں جاری کارروائی پر بھی روک لگا دی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ فی الحال متعلقہ حکم کے اثرات اور اس پر عمل درآمد معطل رہے گا، اور زیرِ التوا رِٹ درخواست میں ہائی کورٹ کے سامنے مزید کارروائی بھی روک دی گئی ہے۔‘‘
سیتھوپتی نے شیوگنگئی ضلع کی تروپتور اسمبلی سیٹ نمبر 185 سے ایک ووٹ کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے  ڈی ایم کے کے رہنما اور سابق وزیر کے آر پیریاکرپن کو صرف ایک ووٹ سے شکست دی تھی۔
سپریم کورٹ نے سیتھوپتی کی درخواست پر پیریاکرپن اور دیگر فریقین کو جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔سیتھوپتی نے ہائی کورٹ کے اُس عبوری حکم کو چیلنج کیا ہے، جس کے تحت انہیں اگلے حکم تک کسی بھی اعتماد کے ووٹ یا عددی اکثریت سے متعلق کارروائی میں ووٹ دینے یا حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔