نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، نئی دہلی کے قائم مقام ڈائریکٹر کو عدالت کے حکم کے باوجود حلف نامہ جمع نہ کرانے پر توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کی ذاتی پیشی کا حکم دیا ہے۔ جسٹس احسن الدین امان اللہ اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے کہا کہ 16 اپریل کو عدالت نے ایمس کے ڈائریکٹر کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایک ازدواجی تنازع سے متعلق بعض نکات کی وضاحت کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کریں۔
تاہم ڈائریکٹر کی جانب سے حلف نامہ جمع کرانے کے بجائے ایمس کے ڈپٹی سیکریٹری نشانت کمار نے ایک حلف نامہ داخل کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں اس کے لیے مجاز بنایا گیا تھا۔ عدالت نے اس اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وضاحت طلب کرنے کا حکم براہِ راست ڈائریکٹر کو دیا گیا تھا اور یہ ذمہ داری کسی دوسرے افسر کے سپرد نہیں کی جا سکتی۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ایمس میں اس وقت مستقل ڈائریکٹر موجود نہیں اور ادارہ قائم مقام ڈائریکٹر کے تحت چل رہا ہے۔ جب عدالت نے پوچھا کہ قائم مقام ڈائریکٹر نے خود حلف نامہ کیوں جمع نہیں کرایا تو جواب دیا گیا کہ وہ صرف عارضی طور پر اس عہدے پر فائز ہیں۔ اس جواب پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وہ اس مؤقف پر "حیران" اور "شاکڈ" ہے۔
بنچ نے واضح کیا کہ کسی بھی عہدے پر مستقل یا عارضی حیثیت سے فائز شخص اس عہدے سے وابستہ تمام ذمہ داریوں کی ادائیگی کا پابند ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ قائم مقام ڈائریکٹر کی لاعلمی کی کوئی دلیل قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور بادی النظر میں یہ معاملہ توہینِ عدالت بنتا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے ایمس کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈاکٹر نکھل ٹنڈن کو مقدمے میں فریق بناتے ہوئے ان کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے انہیں 7 جولائی 2026 کو ہونے والی آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر حاضر ہو کر وضاحت پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔