نئی دہلی
سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے اور اُن کی نس بندی سے متعلق اپنے سابقہ احکامات واپس لینے کی درخواست کرنے والی تمام عرضیاں اور درخواستیں منگل کے روز یہ کہتے ہوئے خارج کر دیں کہ باعزت زندگی کے حق میں کتوں کے حملوں سے محفوظ رہنے کا حق بھی شامل ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے آوارہ جانوروں سے نمٹنے کے لیے ’’ہندوستانی حیوانی بہبود بورڈ‘‘ کی جانب سے جاری معیاری رہنما اصولوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ مضبوط بنانے کی ہدایت دی۔
بنچ نے کہا کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی تیاری میں مسلسل اور منظم کوششوں کی ’’واضح کمی‘‘ نظر آتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ ’’جانوروں کی افزائش پر قابو پانے کے پروگرام‘‘ پر ملک بھر میں غیر منظم، ناکافی مالی وسائل اور غیر مساوی انداز میں عمل کیا جا رہا ہے۔بنچ نے کہا کہ باعزت زندگی گزارنے کے حق میں کتے کے کاٹنے کے خوف سے آزاد زندگی گزارنے کا حق بھی شامل ہے، اور عدالت اس تلخ حقیقت سے آنکھیں نہیں چرا سکتی کہ بچے، غیر ملکی سیاح اور بزرگ افراد کتوں کے حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔
عدالت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی کہ وہ آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون سے بنیادی ڈھانچہ مضبوط کریں۔سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں کی بحالی اور نس بندی سے متعلق 7 نومبر کے اپنے حکم میں تبدیلی کی درخواست کرنے والی عرضیوں پر 29 جنوری کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا اور پنجاب، راجستھان، اتر پردیش اور تمل ناڈو کی کوششوں پر عدم اطمینان ظاہر کیا تھا۔
گزشتہ سال 7 نومبر کو تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور ریلوے اسٹیشنوں جیسے مقامات پر کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ آوارہ کتوں کو نس بندی کے بعد فوری طور پر مخصوص پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے۔عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ پکڑے گئے آوارہ کتوں کو دوبارہ اُن کے اصل مقام پر نہ چھوڑا جائے۔ اس کے ساتھ ہی حکام کو ریاستی شاہراہوں، قومی شاہراہوں اور ایکسپریس ویز سے تمام مویشیوں اور دیگر آوارہ جانوروں کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
سپریم کورٹ ایک میڈیا رپورٹ پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے 28 جولائی سے اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے، جس میں قومی دارالحکومت میں، خاص طور پر بچوں میں، آوارہ کتوں کے کاٹنے سے ریبیز پھیلنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔