سپریم کورٹ:احتجاجی مقامات پر چہرے کی شناخت اور بایومیٹرک نگرانی پر سماعت

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 13-08-2026
سپریم کورٹ:احتجاجی مقامات پر چہرے کی شناخت اور بایومیٹرک نگرانی پر سماعت
سپریم کورٹ:احتجاجی مقامات پر چہرے کی شناخت اور بایومیٹرک نگرانی پر سماعت

 



نئی دہلی | آواز دی وائس

سپریم کورٹ نے جمعرات کو پولیس کی جانب سے احتجاجی مقامات پر چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی اور دیگر بایومیٹرک نگرانی کے آلات کے استعمال کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کی جانچ کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اس عرضی کو کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے حالیہ طلبہ احتجاج سے متعلق عدالت میں زیر التوا دیگر عرضیوں کے ساتھ منسلک کردیا۔کیرالا سے سی پی آئی ایم کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اے اے رحیم کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ نگرانی کے عمل میں چہروں کی میپنگ کے ساتھ ساتھ گاڑی پر نصب ٹیکنالوجی بھی شامل تھی۔ افراد کا ڈیٹا ان کی اجازت کے بغیر جمع کیا گیا اور بعد میں 2 نجی اداروں کے پاس محفوظ کیا گیا۔

رحیم کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے دلیل دی کہ چہروں کی میپنگ کے لیے چشمے نما آلات اور ڈیٹا جمع کرنے کے لیے ایک نگرانی کرنے والی گاڑی کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا افراد کی رضامندی کے بغیر حاصل کیا گیا اور نجی اداروں کے پاس محفوظ کیا گیا جو مبینہ طور پر ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 کی خلاف ورزی ہے۔یہ عرضی دہلی پولیس کی جانب سے جنتر منتر پر مظاہرین کی نگرانی کے لیے مبینہ ڈیجیٹل نگرانی کے آلات کے استعمال کے معاملے سے متعلق ہے۔ بنچ نے اس معاملے پر غور کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے کسی قانونی اختیار کے بغیر مظاہرین کی بایومیٹرک نگرانی کی۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ احتجاج سے متعلق دہلی پولیس کے اسٹینڈنگ آرڈرز یا کریمنل پروسیجر آئیڈینٹی فکیشن ایکٹ 2022 میں شہری اجتماعات کے دوران اس طرح کی نگرانی کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے احتجاجی مقام پر مظاہرین۔ صحافیوں اور دیگر افراد کی تصاویر حاصل کرنے اور ان پر کارروائی کرنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے۔ ڈرونز۔ ایک موبائل کمانڈ اینڈ کنٹرول گاڑی اور نگرانی کے دیگر آلات تعینات کیے تھے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ قانون پُرامن عوامی اجتماعات میں اس طرح کی وسیع پیمانے پر بایومیٹرک شناخت کی اجازت نہیں دیتا۔عرضی میں کہا گیا کہ احتجاجی مقام پر نگرانی کے پیمانے اور طریقہ کار نے آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل رازداری کے حق کو متاثر کیا ہے۔ آرٹیکل 21 زندگی اور انسانی وقار کے حق سے متعلق ہے۔

عرضی میں مرکزی حکومت۔ دہلی پولیس کمشنر۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو اور 2 نجی کمپنیوں ایڈتیہ انفوٹیک لمیٹڈ اور ڈائمینشن این ایکس جی پرائیویٹ لمیٹڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔یہ عرضی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے حالیہ طلبہ احتجاج کے پس منظر میں دائر کی گئی ہے۔ احتجاج کے دوران وہاں موجود مظاہرین۔ صحافیوں اور دیگر افراد کو مبینہ طور پر دہلی پولیس کی ڈیجیٹل اور بایومیٹرک نگرانی کا سامنا کرنا پڑا۔اس احتجاج کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں کئی دیگر عرضیاں بھی دائر کی گئی ہیں جن میں مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی اور قانونی اقدامات سے متعلق معاملات اٹھائے گئے ہیں۔