نئی دہلی۔ بھائی چارے اور قومی یکجہتی کی اقدار کو فروغ دینے کے مقصد سے اتوار کے روز علماء کے ایک گروہ نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے ملاقات کی اور صوفی ثقافت کو عام کرنے کے اپنے منصوبوں سے انہیں آگاہ کیا۔ علماء نے صوفی فکر کو انتہا پسندانہ خیالات کے خلاف سب سے مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے چیئرمین حضرت سید ناصر الدین چشتی نے کہا کہ اجمر درگاہ کے موجودہ روحانی سربراہ اور موروثی سجادہ نشین کے جانشین کی حیثیت سے انہوں نے بتایا کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے ہماری میرا ملک میری پہچان مہم کی ستائش کی اور مضبوط قومی شناخت کے لیے تمام مذاہب کو متحد کرنے کی کوششوں کی تائید کی۔
A delegation comprising prominent Sufi and other Muslim scholars across India, under the leadership of Hazrat Syed Naseruddin Chishty Sahab, Successor of the Present Spiritual Head of Ajmer Dargah & Chairman of All India Sufi Sajjadanashin Council (AISSC) called on NSA Ajit… pic.twitter.com/1r9mGk8XxV
— ANI (@ANI) January 11, 2026
انہوں نے کہا کہ ہم نے میرا ملک میری پہچان کے نام سے ایک مہم شروع کی ہے جس کا مقصد مختلف عقائد اور مذاہب کے باوجود ایک مشترکہ ثقافتی اور تہذیبی شناخت کا پیغام عام کرنا ہے۔
صوفی کونسل کے رہنماؤں کی قومی سلامتی کے مشیر سے یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ ماہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اجمر شریف درگاہ پر رسمی چادر پیش کی تھی۔ یہ چادر ان کی جانب سے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے 814 ویں سالانہ عرس کے موقع پر پیش کی تھی۔
حضرت سید ناصر الدین چشتی نے اتوار کے روز کہا کہ ہم پورے بھارت میں لوگوں سے رابطہ قائم کر رہے ہیں کیونکہ تمام مذاہب کے ماننے والے درگاہوں پر حاضری دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوفی درگاہوں نے ہمیشہ تمام مذاہب کے لوگوں کو خوش آمدید کہہ کر انتہا پسند قوتوں کا مقابلہ کیا ہے۔
A meaningful and constructive interaction was held with Ajit Doval Sahab, during which the delegation emphasized the timeless message of Sufism as a powerful force for unity, peace, and nationalism. The delegation of the All India Sufi Sajjadanashin Council, led by its Chairman… pic.twitter.com/Lo6gIHbRgb
— Syed Naseruddin Chishty (@ChairmanAISSC) January 11, 2026
انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک ہماری عالمی شناخت کی بنیاد ہے۔ جب ہم دنیا میں کہیں بھی جاتے ہیں تو ہمیں ہندو یا مسلمان نہیں بلکہ بھارتی کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری یہ مہم صوفی فکر کے فروغ اور قومی یکجہتی کو یقینی بنانے کے لیے انتہا پسند عناصر کے خلاف ایک مؤثر ذریعہ ہے۔اجمر درگاہ کے سجادہ نشین نے کہا کہ خواجہ غریب نواز کا ابدی پیغام رحمت اور محبت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کے لیے محبت اور کسی کے لیے نفرت نہیں یہی وہ پیغام ہے جسے کونسل عام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل نے دہلی کے نظام الدین ویسٹ میں اپنا ہیڈکوارٹر دفتر بھی قائم کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز منعقدہ تقریبات کا مقصد ملک میں امن کے فروغ کو یقینی بنانا بھی تھا تاکہ عظیم صوفی روایت کی تعلیمات کے مطابق ہم آہنگی اتحاد اور دائمی امن کے پیغام کو عام کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سماجی اور ثقافتی حالات میں ذمہ دار میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے تاکہ بھائی چارے رواداری اور قومی یکجہتی کی اقدار کو فروغ دیا جا سکے۔اتوار کی تقریب میں اجمر درگاہ کے سجادہ نشین کے ہمراہ ملک بھر سے ممتاز صوفی علماء اور معزز سجادہ نشین شریک ہوئے۔ انہوں نے ملک میں امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
#WATCH | A delegation comprising prominent Sufi and other Muslim scholars across India, under the leadership of Hazrat Syed Naseruddin Chishty Sahab, Successor of the Present Spiritual Head of Ajmer Dargah & Chairman of All India Sufi Sajjadanashin Council (AISSC) called on NSA… pic.twitter.com/Wglfpx9S4h
— ANI (@ANI) January 11, 2026
یاد رہے کہ آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل نے ملک میں امن کے فروغ کے عنوان سے پریس میٹ کا انعقاد کیا جس میں عظیم صوفی روایت کے ذریعے دیے گئے محبت ہم آہنگی اور بھائی چارے کے دائمی پیغام کو اجاگر کیا گیا۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے حضرت سید ناصر الدین چشتی صاحب نے کہا کہ موجودہ سماجی اور ثقافتی ماحول میں امن اور اتحاد کا تحفظ مذہبی رہنماؤں سول سوسائٹی میڈیا اور ملک کے شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے میرا ملک میری پہچان کے نعرے کے تحت ایک ملک گیر بیداری مہم کے آغاز کا اعلان کیا جس کا مقصد قومی یکجہتی کو مضبوط کرنا اور ان انتہا پسند اور تفریق پیدا کرنے والی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے جو ملک کے سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔ اس مہم کے تحت کونسل نے عہد کیا کہ وہ ملک کی ہر ریاست اور ہر شہر تک پہنچ کر امن آئینی اقدار اور بھائی چارے کا پیغام عام کرے گی۔
حضرت سید ناصر الدین چشتی صاحب نے کہا کہ صوفی برادری اور درگاہوں نے تاریخی طور پر بھارت میں ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے دہلی ہیڈکوارٹر دفتر کا قیام ایک تاریخی قدم ہے جس سے صوفی اداروں اور درگاہوں کی اجتماعی قومی آواز قائم ہو گی اور اسلام کا حقیقی ہمہ گیر اور پُرامن پیغام قومی سطح پر پیش کیا جا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج بھارت کو دنیا بھر کے مسلم ممالک میں عزت اور وقار حاصل ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں تمام مذاہب اور برادریوں کو یکساں احترام حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے لیے یہ عالمی احترام ان عناصر کے لیے ایک مضبوط اور مناسب جواب ہے جو مسلسل ملک کو بدنام کرنے اور اس کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
پریس میٹ میں ملک بھر سے پچیس سے زائد ممتاز سجادہ نشینوں اور صوفی علماء نے شرکت کی جس سے امن اتحاد اور قومی ہم آہنگی کے لیے مضبوط اجتماعی عزم کا اظہار ہوا۔ اس موقع پر نظام الدین درگاہ سے سید فرید احمد نظامی صاحب۔ کلیئر شریف درگاہ سے علی شاہ صاحب۔ رادولی شریف اتر پردیش سے نیر میاں صاحب۔ جے پور کی درگاہ سے ڈاکٹر حبیب الرحمن نیازی صاحب۔ آگرہ کی درگاہ ابوالعلٰی سے محتشم علی صاحب۔ فتح پور سیکری درگاہ کے سجادہ نشین ارشد فریدی صاحب۔ گلبرگاہ درگاہ سے علی ذکی حسینی صاحب۔ آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے قومی کوآرڈینیٹر سید عبدالقادر قادری صاحب۔ اور قومی سکریٹری غلام نجمی فاروقی صاحب موجود تھے۔
آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل نے میڈیا برادری کا شکریہ ادا کیا اور ملک میں امن اتحاد اور قومی یکجہتی کے پیغام کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل تعاون کی اپیل کی