نئی دہلی: کانگریس رہنما راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کو خط لکھ کر ان سے احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے اور مسئلے کے حل کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ جھارکھنڈ میں طلبہ کا احتجاج پُرامن ہے اور ان کے مطالبات جائز ہیں۔ کانگریس جھارکھنڈ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ (JMM) کی قیادت والی مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔
سورین کو لکھے خط میں گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کے نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور اس بحران کے وقت ہمیں ان کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا اظہار کرنا چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر نے خط میں کہا، ’’کانگریس پارٹی کا ماننا ہے کہ ہندوستان کے آئین میں دیے گئے پُرامن احتجاج کے حق کو ہماری جمہوریت کے بنیادی ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسی لیے ہم گزشتہ چند ماہ کے دوران تعلیمی نظام میں پرچے لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کو اپنی مکمل حمایت فراہم کرتے رہے ہیں۔‘‘ گاندھی نے الزام لگایا کہ ہندوستان کے تعلیمی نظام پر آر ایس ایس اور بی جے پی کا قبضہ ہوگیا ہے اور اسے طلبہ کے استحصال اور دباؤ کے ایک ذریعے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نظام اب وہ مضبوط علمی نظام نہیں رہا جو ایک دہائی قبل ہوا کرتا تھا۔ راہل گاندھی نے 14 اگست کو سورین کے نام لکھے خط میں کہا، ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، جھارکھنڈ میں طلبہ ریاستی بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا احتجاج پُرامن ہے اور ان کے مطالبات جائز ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ جھارکھنڈ حکومت نے وزیراعلیٰ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ذریعے طلبہ سے بات چیت شروع کی ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کے کئی مطالبات پر حکومت اور مظاہرین کے درمیان اتفاق بھی ہوچکا ہے۔ تاہم گاندھی نے کہا کہ احتجاج اب بھی جاری ہے اور بعض طلبہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔
سابق کانگریس صدر نے کہا، ’’میں یہ تجویز دینے کے لیے خط لکھ رہا ہوں کہ آپ احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے ذاتی طور پر ملاقات کریں۔ اس سے طلبہ کے باقی ماندہ مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔‘‘ راہل گاندھی نے ایک بار پھر کہا کہ ہندوستان کے نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور اس مشکل وقت میں طلبہ کو ہر ممکن یکجہتی اور تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔