راجوری: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ ان کی حکومت اور نیشنل کانفرنس (این سی) ریاستی درجہ (اسٹیٹ ہڈ) کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بدھ کے روز جموں و کشمیر بھر میں ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا، "جی ہاں، ریاستی درجہ بحال ہونے تک ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔"
وزیر اعلیٰ نے یہ بات راجوری ضلع میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد اور بازآبادکاری کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب چند روز قبل 20 جولائی کو عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ اور آئینی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سابق ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ نیشنل کانفرنس مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی اس کے اہم سیاسی وعدوں میں شامل ہے۔