کالی کٹ: عبدالکریم امجدی
کالی کٹ کے پونور میں واقع مرکز گارڈن، جامعہ مدینۃ النور کا دو روزہ بین الریاستی سالانہ اجلاس اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس میں ملک کی مختلف ریاستوں میں سرگرم جامعہ کے 17 مربوط کیمپس کی تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ تعلیمی سال کے لیے جامع منصوبۂ عمل کو حتمی شکل دی گئی۔
اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ مدینۃ النور کے ریکٹر ڈاکٹر محمد عبدالحکیم اظہری نے کہا کہ سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء کی قیادت میں کیرالہ میں جو کامیاب اور معیاری تعلیمی ماڈل تیار ہوا ہے، اسے ملک کے مختلف حصوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی سرگرمیوں کو مزید وسعت اور مضبوطی دے کر کیرالہ ماڈل کو قومی سطح پر فروغ دیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر اظہری نے کہا کہ دینی اور عصری تعلیم پر مشتمل متوازن نصاب اور مربوط تعلیمی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی کے ذریعے نئی نسل کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مضبوط علمی بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔
مرکز گارڈن، پونور میں منعقدہ اس اجلاس میں پنجاب، مغربی بنگال، بہار، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو اور لکشدیپ سے آئے ہوئے ذمہ داران اور نمائندوں نے شرکت کی۔ مندوبین نے اپنے اپنے علاقوں کی تعلیمی رپورٹیں پیش کیں اور آئندہ سال کے لیے نصابی منصوبہ بندی، ادارہ جاتی ترقی، انتظامی امور اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت بین الریاستی امور کے سربراہ جعفر نورانی نے کی، جبکہ مرکز گارڈن کے منیجر ابوصالح ثقفی نے اجلاس کا افتتاح کیا۔ پرو ریکٹر آصف نورانی نے نصاب سازی سے متعلق خصوصی اجلاس کی قیادت کی۔مختلف نشستوں سے شہاب الدین نورانی (پونے)، علی شاہ نورانی (تمل ناڈو)، محمد نورانی (اندور)، جلال نورانی اور صادق نورانی نے بھی خطاب کیا۔
اجلاس کا آغاز بین الریاستی امور کے اسسٹنٹ سربراہ نعمان نورانی کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جبکہ پروگرام کوآرڈینیٹر محمد نورانی نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا۔اگر اسے اخبار کے لیے مزید مختصر یا فیچر انداز میں درکار ہو تو اسے بھی اسی انداز میں تیار کیا جا سکتا ہے۔