نئی دہلی: 1999 کے گراہم اسٹینز قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اڑیسہ اسٹیٹ سینٹنس ریویو بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے رویندر کمار پال عرف دارا سنگھ کی قبل از وقت رہائی کی درخواست پر فیصلہ کرے۔ جسٹس منوج مشرا اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے اس بات پر سخت ناراضی ظاہر کی کہ پال کی درخواست پر فیصلہ کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ وہ اپنی عمر قید کی سزا کے 26 سال سے زیادہ گزار چکے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ معاملے کی اگلی سماعت 2 ستمبر 2026 کو ہوگی اور اس وقت تک سینٹنس ریویو بورڈ درخواست پر فیصلہ کرکے عدالت کو آگاہ کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر بورڈ نے فیصلہ نہیں کیا تو عدالت خود فیصلہ کرے گی۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل ڈائریکٹوریٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق کیندوجھر ڈسٹرکٹ جیل سے ایک رپورٹ ابھی موصول ہونا باقی ہے۔
عدالت نے سینٹنس ریویو بورڈ کو ہدایت دی کہ اگلی سماعت تک فیصلہ کرکے اس کے نتائج عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔ دارا سنگھ کو جنوری 1999 میں آسٹریلوی عیسائی مبلغ گراہم اسٹینز اور ان کے دو کم سن بیٹوں فلپ اور ٹموتھی کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ تینوں کو اڑیسہ کے منوہرپور گاؤں میں ان کی اسٹیشن ویگن کے اندر زندہ جلا دیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 2003 میں دارا سنگھ کو سزائے موت سنائی تھی۔
تاہم 2005 میں اڑیسہ ہائی کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ 2011 میں سپریم کورٹ نے عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور قرار دیا کہ یہ مقدمہ سزائے موت کے لیے مقرر کردہ "نایاب ترین جرائم" (rarest of rare) کے زمرے میں نہیں آتا۔ دارا سنگھ کو اڑیسہ میں مسلمان تاجر شیخ رحمان اور عیسائی پادری ارول داس کے قتل کے الگ مقدمات میں بھی مجرم قرار دیا گیا تھا۔