نئی دہلی: لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے باغی ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سدیپ بندیوپادھیائے کو ان کے خلاف دسویں شیڈول کے تحت دائر نااہلی کی درخواست پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے 22 ستمبر تک کی مہلت دے دی ہے۔ سدپ بندیوپادھیائے نے نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا ہے۔
لوک سبھا سکریٹریٹ کے ایک خط کے مطابق، جوائنٹ سکریٹری سنتوش کمار نے بندیوپادھیائے کو بتایا کہ ان کی جانب سے مزید تین ہفتوں، یعنی 22 ستمبر تک، کی مہلت دینے کی درخواست منظور کر لی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے، ’’یکم ستمبر کو آپ کی جانب سے تین ہفتوں کی توسیع، یعنی 22 ستمبر تک، کی درخواست کے حوالے سے، جو آپ نے آئین ہند کے دسویں شیڈول کے تحت آل انڈیا ترنمول کانگریس کے لوک سبھا رکن اور قائد ابھشیک بنرجی کی جانب سے 18 جون کو دائر درخواست کا جواب داخل کرنے کے لیے کی تھی، مجھے یہ بتانے کی ہدایت ہوئی ہے کہ معزز اسپیکر نے آپ کی درخواست منظور کرلی ہے اور جواب داخل کرنے کے لیے 22 ستمبر تک مہلت دے دی ہے۔‘
‘ یہ درخواست ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی نے 18 جون کو دائر کی تھی، جس میں پارٹی بدلنے سے متعلق قانون کے تحت بندیوپادھیائے کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ٹی ایم سی پارلیمانی پارٹی کے قائد ابھشیک بنرجی نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے اہم ملاقات کی تھی۔ تقریباً 20 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں ٹی ایم سی نے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف نااہلی کی کارروائی تیز کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔
دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔