نئی دہلی
لوک سبھا میں آئین (131ویں ترمیمی) بل کی ناکامی کے بعد حکمراں جماعت کی قیادت والی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے درمیان سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمان اقرا حسن نے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا کہ لوک سبھا کی نشستوں کو 850 تک بڑھانے کی حکومتی تجویز دراصل سیاسی نمائندگی کو اپنے حق میں ڈھالنے کی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اقرا حسن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کو جلد از جلد نافذ کیا جائے، اور اپوزیشن کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 33 فیصد ریزرویشن موجودہ نشستوں پر ہی لاگو کیا جانا چاہیے۔ اقرا حسن نے کہا کہ ہم خوشی منائیں گے کیونکہ ان کے ناپاک ارادے ناکام ہو گئے ہیں... وہ ایک ایسی ترمیم لائے تھے جس کے ذریعے وہ ملک کے انتخابی نقشے کو اپنی مرضی کے مطابق بدل سکتے تھے۔ انہوں نے آئین (ایک سو اکتیسواں ترمیمی) بل 2026، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین میں ترمیم کا بل 2026، اور حد بندی سے متعلق بل 2026 کے مجموعی پیکج کی ضرورت پر بھی سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی... ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خواتین کے ریزرویشن بل کو جلد از جلد نافذ کیا جائے۔یہ شکست حکمراں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت کے لیے ایک قانون سازی کا دھچکا مانی جا رہی ہے، کیونکہ ایوان میں سادہ اکثریت ہونے کے باوجود بل مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کر سکا۔گزشتہ روز تین بلوں پر بحث کے بعد ہونے والی ووٹنگ میں 298 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔لوک سبھا کی جانب سے آئینی ترمیمی بل منظور نہ ہونے کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے کہا کہ حکومت دیگر دو بلوں کو آگے بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
جہاں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر خواتین کے ریزرویشن کو روکنے کا الزام لگایا، وہیں اپوزیشن رہنماؤں، جن میں راہل گاندھی بھی شامل ہیں، نے کہا کہ وہ ریزرویشن کی حمایت کرتے ہیں لیکن اسے حد بندی کے ساتھ جوڑنے کی مخالفت کرتے ہیں۔راہل گاندھی نے تمل ناڈو کے پونّیری میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ کل پارلیمان میں وہ ایک نیا بل لے کر آئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین کا بل ہے، لیکن یہ پہلے ہی 2023 میں منظور ہو چکا تھا۔ اس بل کے پیچھے اصل مقصد حد بندی تھا۔ اس کا مقصد پارلیمان میں تمل ناڈو کی نمائندگی کم کرنا اور جنوبی اور چھوٹی ریاستوں کو کمزور کرنا تھا۔ ہم نے کل پارلیمان میں اس بل کو شکست دی۔اپنے وسیع تر سیاسی مؤقف کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان “ریاستوں کا اتحاد” ہے، جہاں ہر ریاست کو برابر کی جگہ ملنی چاہیے۔ “ہر ریاست کو اتحاد میں آواز ملنی چاہیے اور اسے اپنی زبان کے اظہار اور اپنی روایت کے تحفظ کی آزادی ہونی چاہیے۔
دوسری جانب حکمراں جماعت اور اس کے اتحادی کانگریس اور انڈیا اتحاد کے خلاف اپنے احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں، اور الزام لگا رہے ہیں کہ یہ اتحاد خواتین مخالف ہے اور ملک کی خواتین کو آگے بڑھتے نہیں دیکھنا چاہتا۔