نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو حکام کو ہدایت دی کہ جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک کی صحت کی روزانہ نگرانی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ انسانی جان نہایت قیمتی ہے، اس لیے سرکاری ڈاکٹروں کے ذریعے سونم وانگچک کی صحت کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جانا چاہیے۔
مرکزی حکومت اور دہلی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ہر شہری کی جان قیمتی ہے اور سونم وانگچک کے باقاعدہ طبی معائنے پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ہر شہری کی جان قیمتی ہے اور حکومت کو اسے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔‘‘
عدالت نے سالیسٹر جنرل کے مؤقف کو سراہتے ہوئے حکم دیا کہ سونم وانگچک کی طبی حالت کی روزانہ نگرانی کی جائے اور جہاں بھی طبی مداخلت کی ضرورت ہو، فوری طور پر مناسب علاج فراہم کیا جائے۔ یہ حکم ایک مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر سماعت کے دوران دیا گیا، جس میں سونم وانگچک کی صحت پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ 25 دنوں سے نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ سونم وانگچک 28 جون کو اس احتجاج میں شامل ہوئے تھے اور اسی دن سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔