نئی دہلی: ماحولیاتی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے پیر کے روز جنتر منتر میں جاری سی جے پی کے احتجاج کے دوران غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ دوبارہ احتجاج کی نوبت نہیں آئے گی، مگر لداخ کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہ ہونے اور مرکز کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باعث وہ یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔
پی ٹی آئی کو دیے گئے انٹرویو میں وانگچک نے کہا کہ وہ احتجاج پر بیٹھنا نہیں چاہتے تھے، لیکن حالات نے انہیں مجبور کر دیا۔ انہوں نے کہا، "میں خوشی سے بھوک ہڑتال نہیں کر رہا، یہ آسان بھی نہیں۔ ممکن ہے میں جان بھی گنوا دوں، مگر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔" وانگچک طویل عرصے سے لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت تحفظ، ریاست کا درجہ اور بہتر سیاسی نمائندگی دینے کی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کی بھوک ہڑتال حکومت کے ساتھ بامعنی بات چیت کی راہ دوبارہ ہموار کرے گی۔ وانگچک نے یاد دلایا کہ ستمبر 2025 میں لداخ احتجاج کے دوران انہیں قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور فروری 2026 میں رہائی ملی۔ ان کے مطابق قید کے دوران اور رہائی کے بعد حکومت کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں، جن سے انہیں اعتماد کی بحالی کی امید تھی۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کی ملاقات میں پیش رفت کا امکان پیدا ہوا تھا، لیکن بعد میں حکومت نے ان فیصلوں کو تحریری شکل دینے سے گریز کیا، جس کے باعث عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوا۔ وانگچک کا کہنا تھا کہ اعتماد کا بحران پہلے سے موجود تھا کیونکہ 2013-14 میں چھٹے شیڈول سے متعلق کیے گئے وعدے بھی پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود انہیں اب بھی مذاکرات سے امید وابستہ ہے۔
ان کے بقول، "اگر امید نہ ہوتی تو میں یہاں موجود نہ ہوتا۔ مجھے یقین ہے کہ حکومت کا ضمیر جاگے گا اور وہ اپنی غلطی کا احساس کرے گی، کیونکہ اس نے تحریری وعدہ کیا تھا۔" وانگچک نے کہا کہ جمہوری حکومتوں کو عوام کے مطالبات کو ہمدردی سے سننا چاہیے اور اختلافِ رائے کو خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ احتجاج سے متعلق مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے اور حکومت کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر آنے والی نسلوں کے مفاد میں اس تحریک کی حمایت کریں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج ہمیشہ پُرامن ہونا چاہیے۔
"خوف نہ رکھیں، مگر نفرت بھی نہ پالیں۔ اپنا پیغام محبت اور امن کے ساتھ دیں، پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا، اور پھر کوئی بھی حکومت آپ کے مطالبات کو نظر انداز نہیں کر سکے گی۔" انہوں نے نوجوانوں کو جیل سے نہ ڈرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ذاتی تجربے سے معلوم ہے کہ مشکلات انسان کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ وانگچک نے آخر میں کہا کہ ان کی تحریک کا بنیادی مقصد تعلیم اور ماحولیاتی تحفظ ہے، اور لداخ کے عوام کے جائز مطالبات کو مزید نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔