دبئی
مشرقِ وسطیٰ سے ایک بار پھر کشیدگی اور افسوسناک خبر سامنے آئی ہے۔ حماس نے جمعرات (7 مئی) کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں اس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے کی موت ہو گئی ہے۔ یہ حملہ غزہ شہر میں ہوا، جہاں مسلسل جاری تنازع کے درمیان عام شہریوں اور سیاسی و عسکری رہنماؤں کے خاندان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔حماس کے مطابق جاں بحق ہونے والے نوجوان کا نام عزم الحیہ تھا، جو خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے تھے۔ تنظیم کے ایک اور سینئر رہنما باسم نعیم نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ فضائی حملہ غزہ پٹی کے ایک رہائشی علاقے میں ہوا، جہاں کئی افراد متاثر ہوئے۔
غزہ شہر طویل عرصے سے تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑا ہے۔ خلیل الحیہ خود اس وقت غزہ میں موجود نہیں ہیں، لیکن ان کے خاندان کے افراد وہیں رہتے ہیں۔ ان کے مجموعی طور پر سات بچے ہیں اور وہ پہلے بھی کئی ذاتی سانحات کا سامنا کر چکے ہیں۔رپورٹوں کے مطابق اس سے قبل بھی ان کے خاندان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سن 2008 اور 2014 میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران ان کے دو بیٹوں کی موت ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں کی ایک میٹنگ پر ہونے والے مبینہ فضائی حملے میں ان کے ایک اور بیٹے کی بھی جان چلی گئی تھی۔ ان واقعات نے ان کے خاندان کو مسلسل جنگ اور تشدد کا شکار بنایا ہے۔
یہ تنازع 7 اکتوبر 2023 کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا، جب حماس نے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں کئی حملے کیے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی، جس سے صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی یا بے گھر ہوئے ہیں۔غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 70 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی شامل ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کے حوالے سے مختلف ذرائع میں فرق بھی پایا جاتا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ انسانی بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
اگرچہ حال ہی میں خطے میں جزوی جنگ بندی کی خبریں سامنے آئی تھیں، لیکن زمینی سطح پر تشدد اور فضائی حملے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں۔ وقتاً فوقتاً دونوں فریقوں کی جانب سے حملوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں، جس سے امن کی کوششوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک اور تنظیموں نے اس تنازع کو ختم کرنے اور بات چیت کے ذریعے حل نکالنے کی اپیل کی ہے، لیکن اب تک کوئی مستقل امن معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ اس دوران عام شہری مسلسل عدم تحفظ اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اسرائیل-حماس تنازع میں صرف سیاسی یا عسکری قیادت ہی نہیں بلکہ عام خاندان بھی اس کی ہولناک قیمت ادا کر رہے ہیں۔