لداخ کے لوگوں کے مطالبات پر شاہ خاموش: کانگریس

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 01-05-2026
لداخ کے لوگوں کے مطالبات پر شاہ خاموش: کانگریس
لداخ کے لوگوں کے مطالبات پر شاہ خاموش: کانگریس

 



نئی دہلی
کانگریس نے جمعہ کے روز وزیر داخلہ امت شاہ کے لداخ دورے کو لے کر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پپراہوا تبرکات کی تعریف میں مصروف ہیں، لیکن لداخ کے لوگوں کی ریاستی درجہ، آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت تحفظ اور زمین و روزگار کی سلامتی سے متعلق مطالبات پر خاموش ہیں۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے جولائی 1949 میں کیے گئے لداخ دورے کا بھی ذکر کیا۔
رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا، "وزیر داخلہ آج لداخ میں پپراہوا تبرکات کی تعریف میں مصروف ہیں، لیکن وہاں کے لوگوں کے ریاستی درجہ، آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت درجہ اور زمین و روزگار کے تحفظ کے مطالبات پر خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاہ کو لداخ میں پہلے منعقد ہونے والی ایسی تقریبات کے بارے میں معلومات نہیں ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کے دو بڑے شاگرد، ارہنت ساری پترا اور ارہنت مہا مودگلیایَن کے مقدس تبرکات کو برطانوی حکومت 1851 میں سانچی اسٹوپ سے لے گئی تھی اور انہیں لندن کے "وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم" میں رکھا گیا تھا۔ بعد میں یہ تبرکات 14 جنوری 1949 کو نہرو کو واپس کیے گئے اور اسی دن کولکتہ میں واقع "مہابودھی سوسائٹی آف انڈیا" کے حوالے کر دیے گئے۔
رمیش نے کہا کہ چند ماہ بعد جولائی 1949 کے آغاز میں، یعنی بہار حکومت کی جانب سے بودھ گیا مندر ایکٹ 1949 پاس کیے جانے کے فوراً بعد، نہرو نے لداخ کا چار روزہ دورہ کیا۔ اس دوران محترم کشک بکولا رنپوچھے نے نہرو سے درخواست کی تھی کہ یہ تبرکات لداخ بھی بھیجے جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک سال بعد مئی 1950 میں یہ ممکن ہوا اور ان تبرکات کو 79 دن تک لداخ کے مختلف مقامات پر لے جایا گیا۔کانگریس نے جمعرات کو بھی لداخ کے عوام کے مطالبات پر "حکومت کی خاموشی" پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز کو آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت تحفظ فراہم کرنے اور ریاستی درجہ دینے کے مطالبے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔