نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر بیرونی حفاظتی حصار ہٹا دیا گیا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 20-08-2026
نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر بیرونی حفاظتی حصار ہٹا دیا گیا
نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر بیرونی حفاظتی حصار ہٹا دیا گیا

 



نئی دہلی:نئی دہلی میں حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر قائم بیرونی حفاظتی حصار کو اچانک ہٹا دیا ہے۔ سفارتی عمارت کے گرد نصب ٹریفک بولارڈز اور رکاوٹیں بھی ختم کردی گئی ہیں۔یہ اقدام پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر موجود حفاظتی بیریئرز ہٹائے جانے کے مبینہ طور پر 3 دن بعد سامنے آیا ہے۔

نئی دہلی میں یہ کارروائی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کے دوران کی گئی ہے۔ یہ کشیدگی گزشتہ سال پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد مزید بڑھ گئی تھی جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔بھارت نے پہلگام حملے کے جواب میں آپریشن سندور کے تحت دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی جاری رہی اور 10 مئی کو جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔

دریں اثنا امریکہ کے جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے خصوصی نمائندے اور سفیر سرجیو گور نے بدھ کو سری نگر کے دورے کے دوران جموں و کشمیر کو ہندوستان کا ایک اہم حصہ قرار دیا۔سرجیو گور نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ اس علاقے کا دورہ کر رہے ہیں اور یہ ہندوستان کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو انتہائی خوبصورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں آکر خوش ہیں۔

امریکی سفیر نے مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے خطے کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے کے حوالے سے اپنے سفری انتباہ پر نظرثانی کرے گا اور ممکن ہے کہ اسے کم کیا جائے۔گور نے کہا کہ وہ اس حوالے سے فی الحال کوئی بڑا اعلان نہیں کرسکتے لیکن امریکہ اس معاملے کا جائزہ لے گا۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر حکومت نے علاقے کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

امریکی سفیر کے اس دورے اور جموں و کشمیر کو ہندوستان کا حصہ قرار دینے والے بیان پر پاکستان نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

پاکستان نے امریکی سفیر کے بیان کو ’’حقائق کے منافی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراض کیا ہے۔