نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے خبردار کیا ہے کہ شخصیت کے حقوق کا استعمال کارٹون، طنزیہ اظہار یا پیروڈی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب ایسا مواد کسی شخص کی شخصیت کے تجارتی استحصال کے زمرے میں نہ آتا ہو۔ عدالت نے یہ مشاہدہ فزکس والا کے بانی الکھ پانڈے کو تیسرے فریق کی جانب سے ان کے نام، تصویر اور دیگر شناختی خصوصیات کے نقالی اور مالی فائدے کے لیے استعمال کے خلاف تحفظ دیتے ہوئے کیا۔
معروف استاد الکھ پانڈے نے الزام لگایا تھا کہ کئی انٹرنیٹ پلیٹ فارم اور صارفین سوشل میڈیا پوسٹوں، اسٹیکر پیکس، ویڈیوز، ویب سائٹس اور دیگر ذرائع کے ذریعے ان کے نام، تصویر اور دیگر شناختی خصوصیات کا استعمال کرکے مالی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پانڈے کا کہنا تھا کہ اس مواد کا کچھ حصہ فحش اور جنسی طور پر قابل اعتراض بھی تھا۔ 5 اگست کو جاری عبوری حکم میں جسٹس انوپ جے بھمبھانی نے کہا کہ وہ پانڈے کو تین طرح کی خلاف ورزیوں کے خلاف تحفظ دینے کے حق میں ہیں: جنسی طور پر فحش مواد، بغیر اجازت ان کی شخصیت کو مالی فائدے کے لیے استعمال کرنا، اور ان کی نقالی کرنا۔
عدالت نے کہا، "اس عدالت کی رائے میں، موجودہ معاملے میں جس انداز سے شخصیت کے حقوق کا دعویٰ کیا گیا ہے، اس کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے اور اس کے غلط استعمال کا امکان بھی موجود ہے۔" ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ شخصیت کے حقوق کو کسی غلط کام سے متعلق معلومات کی تشہیر روکنے یا اظہار کی پوری ایک صنف کو ختم کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اس میں کارٹون، طنزیہ اظہار اور پیروڈی بھی شامل ہیں، جو ضروری نہیں کہ کسی فرد کی شخصیت یا تشہیری حقوق کے تجارتی استحصال کے مترادف ہوں۔
عدالت نے کہا، "اس تنبیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے، موجودہ معاملے میں عدالت مدعی کو صرف درخواست میں بیان کی گئی تین قسم کی خلاف ورزیوں کے خلاف محدود تحفظ دینے پر آمادہ ہے۔" عدالت نے آن لائن پلیٹ فارمز کو حکم دیا کہ وہ عدالتی حکم میں شناخت کیے گئے قابل اعتراض مواد کو ہٹا دیں۔
واضح رہے کہ ایشوریہ رائے بچن، ابھیشیک بچن، سلمان خان، آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر، صحافی سدھیر چودھری، پوڈکاسٹر راج شامانی، آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان اور کرکٹر ابھیشیک شرما سمیت کئی معروف شخصیات اپنی شخصیت اور تشہیری حقوق کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کر چکی ہیں۔ ہائی کورٹ نے ان شخصیات کو عبوری راحت بھی فراہم کی ہے۔