نئی دہلی
عام آدمی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے پیر کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ’’سات اپیلوں‘‘ پر سخت تنقید کی، جن میں شہریوں سے مغربی ایشیا کے جاری بحران کے دوران ایندھن اور خوردنی تیل کے استعمال میں کمی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ عام لوگوں پر حب الوطنی کے نام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں، سنجے سنگھ نے وزیرِ اعظم کے اُس بیان پر اعتراض کیا جو انہوں نے اتوار کو سکندرآباد میں ایک عوامی خطاب کے دوران دیا تھا، جہاں مودی نے شہریوں سے عالمی تنازعات کے سبب پیدا ہونے والے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ استعمال کی عادت اپنانے کی اپیل کی تھی۔
سنجے سنگھ نے کہا کہ پیارے ہم وطنوں، انتخابات تک مودی جی آپ کا بوجھ اٹھاتے رہے، لیکن جیسے ہی انتخابات ختم ہوئے، آپ کی ضرورت بھی ختم ہو گئی۔ اب حب الوطنی کے نام پر قطار میں لگ جاؤ۔ گیس مہنگی ہو گئی ہے، اب پٹرول اور ڈیزل بھی مہنگے ہوں گے۔ حب الوطنی کے نام پر پٹرول، ڈیزل اور گیس کا استعمال بند کر دو، سونا مت خریدو، یہاں تک کہ کھانے کا تیل بھی استعمال نہ کرو۔انہوں نے حکومت کے رویّے میں دوہرے معیار کا الزام لگاتے ہوئے وزیرِ اعظم کے عوامی پروگراموں اور بیرونی دوروں پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ لیکن مودی جی اپنی ریلیوں میں لاکھوں لوگوں کو جمع کریں گے، بیرونِ ملک دورے کریں گے، بے تحاشا ایندھن جلائیں گے۔ ان کے لوگ صرف سونا ہی نہیں خریدیں گے بلکہ پورے ملک کی دولت سمیٹ لیں گے، اور آپ بس بے وقوف بنتے رہیں۔ اور ہاں، اگر آپ مودی جی کی مہنگائی برداشت نہ کر سکیں، تو اندھے بھکت اور چاپلوس ذرائع ابلاغ آپ کو پاکستانی قرار دے دیں گے۔
اس سے پہلے اتوار کو وزیرِ اعظم مودی نے لوگوں سے خوردنی تیل کے استعمال میں کمی کرنے، عوامی ٹرانسپورٹ، کار پولنگ اور برقی گاڑیوں کو اپنانے، اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے قدرتی کھیتی کی طرف بڑھنے کی اپیل کی تھی، تاکہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کی بچت ہو سکے۔
مودی نے اسے ’’معاشی خود دفاع‘‘ کی ایک شکل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج کے دور میں حب الوطنی کا مطلب عالمی سپلائی نظام میں رکاوٹوں اور مغربی ایشیا کے تنازعات کے باعث بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے درمیان ذمہ دارانہ زندگی گزارنا اور سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہے۔