آر ایس ایس نے مندر کے عطیہ کی چوری کو "انتہائی قابل مذمت" قرار دیا

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 03-07-2026
آر ایس ایس نے مندر کے عطیہ کی چوری کو
آر ایس ایس نے مندر کے عطیہ کی چوری کو "انتہائی قابل مذمت" قرار دیا

 



نئی دہلی
 راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے جمعہ کو ایودھیا کے شری رام للا مندر میں چندہ بکسوں سے مبینہ چوری کے واقعے کو "انتہائی قابل مذمت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ قصورواروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے اور مندر کے انتظامات میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جانی چاہیے تاکہ عقیدت مندوں کا اعتماد برقرار رہے۔
اپنے بیان میں آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ شری رام جنم بھومی پر تعمیر ہونے والا رام مندر نسلوں سے رام بھکتوں کی جدوجہد، قربانیوں اور لگن کا نتیجہ ہے اور اب یہ پورے ہندو سماج کے لیے عقیدت، ایمان اور بھکتی کی علامت بن چکا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا کہ، "شری رام جنم بھومی پر تعمیر ہونے والا یہ عظیم الشان مندر کروڑوں رام بھکتوں کی قربانیوں، جدوجہد اور شہادتوں کی بدولت پورے ہندو سماج کے لیے عقیدت اور ایمان کا مرکز بن گیا ہے۔
ہوسابالے نے کہا کہ چندہ بکسوں سے چوری کے واقعے نے ملک بھر کے رام بھکتوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا کے شری رام للا مندر میں رکھے گئے چندہ بکسوں سے چوری کا افسوسناک واقعہ پورے سماج اور رام بھکتوں کے جذبات کو مجروح کرنے والا ہے اور ہم سب اس واقعے سے رنجیدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کی درخواست پر اتر پردیش حکومت نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے اور اس کی سفارشات کی بنیاد پر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ تحقیقات میں جو بھی قصوروار پایا جائے، اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔آر ایس ایس رہنما نے اس واقعے کو "انتہائی قابل مذمت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے ایک غیر معمولی معاملہ سمجھا جانا چاہیے اور مندر کے انتظام و انصرام میں موجود تمام خامیوں کو سنجیدگی سے دور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پورا ہندو سماج، بشمول راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، یہ توقع رکھتا ہے کہ ٹرسٹ اس افسوسناک واقعے کو ایک غیر معمولی معاملہ سمجھتے ہوئے انتظامی اور مالیاتی نظام کی تمام خامیوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات کرے گا، تاکہ ایودھیا مندر کے تئیں کروڑوں رام بھکتوں کا اعتماد اور عقیدت برقرار رہے۔ہوسابالے نے امید ظاہر کی کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ شفاف مالیاتی نظام، بہتر انتظامات اور مقدس ماحول کے ذریعے عقیدت مندوں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا، "ہمیں یقین ہے کہ شفاف مالیاتی انتظام، مؤثر نظم و نسق اور پاکیزگی و تقدس سے بھرپور ماحول کے ذریعے ٹرسٹ ہندو سماج کے اعتماد اور عقیدت کو مزید مستحکم کرے گا۔
آر ایس ایس نے ہندو سماج سے بھی اپیل کی کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے۔بیان میں کہا گیا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پورے ہندو سماج سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرے اور ان ہندو مخالف اور قوم مخالف عناصر کی سازشوں کو ناکام بنائے جو اس افسوسناک واقعے کو ہندو دھرم اور سماج کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
دریں اثنا، رام مندر میں مبینہ چندہ خردبرد معاملے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے جمعہ کو مزید تفتیش کے لیے مندر احاطے کا دورہ کیا۔اتر پردیش حکومت نے یکم جولائی کو ایس آئی ٹی کی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 15 دن کی توسیع منظور کی تھی، تاکہ وہ معاملے کے تمام پہلوؤں کی جامع جانچ کر سکے۔
واضح رہے کہ 23 جون کو ابتدائی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد 25 جون کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس کے بعد آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
بعد ازاں، ایودھیا رام مندر میں چندہ کے مبینہ غلط استعمال کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چمپت رائے اور سابق ٹرسٹی انیل مشرا نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا، جبکہ پولیس ایف آئی آر میں نامزد تمام آٹھ افراد کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔