ممبئی
این سی پی لیڈر روہت پوار نے بدھ کے روز مہاراشٹر کے گورنر جِشنو دیو ورما سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے مختلف اہم مسائل پر بات چیت کی، جن میں ریاست میں انسدادِ جادو ٹونا قانون کے مؤثر نفاذ کا معاملہ بھی شامل تھا۔پوار نے گورنر سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ ایک ایسا قانون بنانے کے لیے کوشش کریں جس کے تحت حکومت کو ان افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہو جو چھترپتی شیواجی مہاراج، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور مہاتما پھولے جیسی عظیم شخصیات کے خلاف توہین آمیز بیانات دیتے ہیں۔
پوار نے کہا کہ مقتول عقلیت پسند نریندر دابھولکر نے جادو ٹونا اور توہم پرستی کے خلاف قانون بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون نافذ ہو چکا ہے، لیکن اس کا صحیح طریقے سے نفاذ نہیں ہو رہا۔ میں نے گورنر سے درخواست کی ہے کہ وہ ریاستی حکومت سے بات کریں تاکہ اس قانون پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
مہاراشٹر انسدادِ انسانی قربانی اور دیگر غیر انسانی، شیطانی و اغوری رسومات و جادو ٹونا قانون کے تحت جادو ٹونا یا توہم پرستی کی مشق، تشہیر یا فروغ دینا ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ اس میں چھ ماہ سے لے کر سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا کا پرو ویشن موجود ہے۔
پوار نے الزام لگایا کہ حالیہ دنوں میں عظیم شخصیات کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں خود ساختہ بابا دھیریندر شاستری نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے خلاف توہین آمیز بیان دیا۔ اسی طرح کئی دیگر افراد نے بھی نامناسب تبصرے کیے ہیں۔ میں نے گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے بیانات کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت کو بااختیار بنانے والا قانون بنایا جائے۔کرجت-جمکھڈ کے رکن اسمبلی پوار نے پونے کے آئی ایل ایس لا کالج میں طلبہ سے مبینہ طور پر زائد فیس وصول کیے جانے کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے ناندیڑ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر مرحوم جناردھن واگھمارے کے نام پر ایک چیئر قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا، اور یونیورسٹی کیمپس میں ان کا مجسمہ نصب کرنے کے اہلِ خانہ کے مطالبے کی حمایت کی۔ پوار کے مطابق، گورنر نے ان مطالبات پر مثبت ردعمل ظاہر کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ان معاملات کا جائزہ لیں گے۔